عام طور پر دیر سے دفتر آنے والے ملازمین ہی سرزنش یا برطرفی کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اسپین میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون کو وقت سے پہلے دفتر پہنچنے پر نوکری سے نکال دیا گیا۔
یہ واقعہ اسپین کے شہر الیکانٹے میں پیش آیا، جہاں ایک ڈیلیوری کمپنی میں ملازمت کرنے والی خاتون روزانہ صبح 6:45 سے 7:00 بجے کے درمیان دفتر پہنچ جاتی تھیں—حالانکہ ان کا کنٹریکٹ واضح طور پر کہتا تھا کہ ان کی شفٹ 7:30 بجے شروع ہوتی ہے۔
اپنے کولیگز اور مینیجر سے پہلے آکر کام شروع کرنا، جو عام طور پر ایک مثبت عادت سمجھی جاتی ہے، یہاں ان کے لیے مسئلہ بن گئی۔
2023 میں منیجر نے پہلی بار خاتون کو جلدی آنے پر سرزنش کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے کنٹریکٹ کے مطابق وقت پر ہی کام شروع کیا کریں۔
تاہم خاتون نے وارننگ کے باوجود جلدی دفتر آنا جاری رکھا۔ کمپنی کی جانب سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود انہوں نے اپنا معمول نہیں بدلا۔
آخرکار رواں برس منیجر نے انہیں بتا دیا کہ دفتر جلدی آنا نہ صرف کمپنی کے قواعد کے خلاف ہے بلکہ اسے ’سنگین بدتمیزی‘ تصور کیا جائے گا—اور اسی بنیاد پر خاتون کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
خاتون نے اپنے خلاف اس کارروائی پر کمپنی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔
عدالت میں مینیجر نے مؤقف اختیار کیا کہ: خاتون کے جلد آنے پر ان کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تھا، وہ کمپنی کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ نہیں تھیں، مسلسل وارننگ کے باوجود وہ اپنی مرضی پر قائم رہیں، ان کا رویہ کمپنی ورکر تعلقات میں تناؤ پیدا کر رہا تھا۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا اور برطرفی کو درست قرار دے دیا۔یہ دلچسپ کیس ظاہر کرتا ہے کہ دفتر ’’جلدی‘‘ پہنچنا بھی کبھی کبھار ’’مسئلہ‘‘ بن سکتا ہے—خاص طور پر جب بات کمپنی کے ضابطوں اور پروفیشنل رویے کی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خاتون کو کمپنی کے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور