فیفا نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پیس پرائز سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیس پرائز دے دیا ہے۔
فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 ورلڈ کپ کی ڈرا تقریب کے دوران نیا فیفا پیس پرائز دیا، جس سے تقریب کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نوبیل انعام سے محرومی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی خاموشی، مگر سوشل میڈیا پر طوفان
ٹرمپ ماضی میں نوبیل امن انعام کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ انہیں غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں پر عالمی اعزاز ملنا چاہیے تھا۔
ایوارڈ اہم نہیں، جانیں بچانا اہم، ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعملتقریب میں پہنچتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایوارڈ ملنے کا یقین نہیں تھا اور ان کی ترجیح لوگوں کی جانیں بچانا ہے، نہ کہ اعزازات لینا۔
فیفا کے مطابق یہ ایوارڈ اُن شخصیات کے لیے ہے جو عالمی امن کے لیے غیر معمولی کردار ادا کرتی ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کو متحد کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے صدر ٹرمپ کے ناقد نوبیل انعام یافتہ نائجیرین ادیب کا ویزا منسوخ کردیا
انفانٹینو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈل اور ایک خصوصی سنہری ٹرافی دی جس پر ٹرمپ کا نام درج ہے۔ سرٹیفکیٹ میں انہیں امن اور یکجہتی کے فروغ پر سراہا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوارڈ کو اپنی زندگی کے بڑے اعزازات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اپنی اہلیہ اور اہلِ خانہ کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور میکسیکو کی صدر کلاڈیایا شین باؤم کی تعریف بھی کی۔
ایوارڈ ایسے موقع پر دیا گیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ یوکرین جنگ کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ کیریبین میں کارروائیوں اور امیگریشن پر سخت بیانات زیرِ بحث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی‘، نوبیل انعام پر وائٹ ہاؤس برہم
اس سال نوبیل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مشادو کو ملا، جنہوں نے ایوارڈ کو جزوی طور پر ٹرمپ کی حمایت کے نام کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کو کے لیے کی صدر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔