برآمدات میں کمی کا علاج، اب ضروری
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
رات کی خاموشی میں جب کراچی بندرگاہ پرکنٹینر سے سامان اتارنے کی گہما گہمی تھی، وہیں ایک کونے میں کھڑی ہوئی معیشت اپنی سانسیں گن رہی تھی۔ سناٹے میں اور شور شرابے میں ایک عدد چیخ گونج رہی تھی جیسے بین کر رہی ہو۔ ایسی چیخ جسے خوشحال قوموں نے کبھی نہیں سنا۔ وہ قوم جس کا پیشہ زراعت ہو، جس کے کھیت لہلہاتے ہوں، جس کی بارانی زمینوں پر آج بھی باران رحمت اترتی ہو، لیکن آج 5 ماہ کے عرصے میں اس قوم نے غیر ملکی دال، غذائی درآمدات، موبائل فونز، قیمتی گاڑیوں، مہنگے ترین فرنیچرز، سامان آرائش و زیبائش کی درآمد پر اتنا خرچ کر ڈالا کہ 5 ماہ میں برآمدی مالیت سے کہیں آگے نکل گئی۔
یعنی 28 ارب 31 کروڑ30 لاکھ ڈالرز کی درآمدات اس طرح درآمدات میں 13.
ہماری برآمدات نے تو جیسے سارا بھانڈا ہی پھوڑ دیا ہو، بیرون ملک تعینات تجارتی اتاشیوں کا پول کھول دیا ہو۔ پاکستانی برآمدات سے سفیروں کی عدم دلچسپی ظاہر کر دی ہو۔ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ جولائی تا نومبر ان 5 ماہ میں برآمدات میں 6.39 فی صد کی کمی کے ساتھ صرف 12 ارب 84 کروڑ40 لاکھ ڈالرز کی رہیں۔ ایک طرف دنیا کی تجارت میں مقابلہ تیز ہو رہا ہے، بہت سے ملکوں کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ بھی ہو رہا ہے اور ہماری برآمدات گھٹتی چلی جا رہی ہیں۔
جب برآمدات اور درآمدات کی مالی صورت حال اس قسم کی ہوگی تو تجارتی خسارے نے معیشت کو وہ گھاؤ لگا دیا ہے جس کو صرف غریب عوام ہی محسوس کر رہے ہیں اور یوں جولائی تا نومبرکا تجارتی خسارہ 37.17 فی صد کی جست لگا کر 15 ارب 47 کروڑ ڈالرز کا ہوگیا ہے۔ یہ محض ایک عدد بن کر نہیں رہ گیا، یہ معیشت کے اوپر وہ داغ ہے جہاں پر ڈالر کے پیچھے بیرونی قرض ہے۔ ہر قرض کے پیچھے آئی ایم ایف کی ہڈیاں توڑتی ہوئی شرائط ہیں اور ہر شرط کے پیچھے عوام کی کمزور ترین پسلیاں ہیں اور ان کے پیچھے غریب، کمزور، نڈھال، فاقہ کش عوام کی چیخیں ہیں جو اشرافیہ کو سنائی نہیں دیتیں۔
اس وقت عالمی معاشی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ ایک طرف جنگ بھی چل رہی ہے، اسرائیل کا ظلم و ستم غزہ پر اس کی چیرہ دستیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور طاقتور ممالک پھر بھی اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ تجارت بھی زوروں پر ہے بنگلہ دیش کی برآمدات، ویتنام کی برآمدات اور دیگر ملکوں کی برآمدات کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدی کارکردگی انتہائی کمزور ہے۔ برآمدات کے سلسلے میں بہت سے مسائل حل کیے بغیر اور بہت سے مسائل لاد کر ہمارے کارخانہ داروں، ایکسپورٹرز کو سراب میں دھکیل کر کہا جائے کہ دوڑو، تو ایسا ممکن ہے؟
ان 5 ماہ کی برآمدات ہمیں بتاتی ہیں کہ پاکستان ایسے مسافر کی طرح ہے جس کی جیب میں جو بھی پیسے ہیں وہ قرض کے ہیں، ان پر سود کا بوجھ چڑھا ہوا ہے، شرائط کے شکنجے میں کسا ہوا ہے، لیکن پھر بھی ادھڑے ہوئے سانس کے ساتھ ہانپتا کانپتا ہوا چلا جا رہا ہے، کیونکہ رک جانا موت ہے، خودکشی ہے۔
اس کالم میں اگرچہ معیشت کا نوحہ بیان کیا گیا ہے لیکن امید کی شمعیں ابھی بھی روشن ہیں۔ وہ ہے پاکستان کے تاجروں کا اعتماد ان کی صلاحیتیں۔ ان کو موقع ملنے کی بات، بیرون ملک ان کے لیے سفارت خانے کی طرف سے سہولیات کا ملنا، برآمدی پالیسی کا تجارت دوست بنانا۔ ہر پالیسی، ہر قانون، ہر رعایت، ہر سہولت صرف اور صرف اشرافیہ کے لیے نہ ہو۔ ان کے لیے ہوں جو دن رات محنت کرکے کارخانے چلاتے ہیں، پیداوار کے ڈھیر لگاتے ہیں، مزدوروں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، محنت کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں، دن رات محنت کرکے اپنے مال کو بیرون ملک فروخت کرنا چاہتے ہیں۔
ان کے ساتھ مل بیٹھ کر حکومت برآمدی مسائل حل کرے۔ اب اشرافیہ پر اپنی ترجیحات خرچ کرنے کے بجائے ملک کو برآمدی ملک بنانے کو ترجیح دی جائے۔ کوئی بھی ملک درآمدی مالیت میں اضافہ کرکے کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے ہر سطح پر، ہر طریقے سے کوشش کرنا ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو روزگار میسر آ سکے۔ لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہو اور ملکی طلب میں اضافہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی برآمدات کے پیچھے ہیں اور رہے ہیں کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔