40 ہزار روپے کے پریمیم پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے اہم اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : 40 ہزار روپے کے پریمیم پرائز بانڈ رکھنے والے افراد کیلئے قرعہ اندازی کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا۔
نیشنل سیونگز سینٹر نے 40 ہزار روپے مالیت کے پریمیم پرائز بانڈ کی سال 2025 کی آخری قرعہ اندازی کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ 40 ہزار روپے کے پریمیم پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی 10 دسمبر 2025 کو نیشنل سیونگز سینٹر سیالکوٹ میں ہوگی۔
واضح رہے کہ پریمیم پرائز بانڈ عام قومی پرائز بانڈ سے مختلف ہے، کیونکہ یہ رجسٹرڈ بانڈ ہوتا ہے جو سرمایہ کار کے نام پر جاری کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت بانڈ ہولڈر کو نہ صرف ہر 6 ماہ بعد منافع ملتا ہے بلکہ وہ ہر سہ ماہی ہونے والی قرعہ اندازی میں بھی انعام کے لیے اہل ہوتا ہے، بشرطیکہ شیڈول کے مطابق "شٹ پیریڈ” کی پابندی کی جائے۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
پریمیم پرائز بانڈ اسکیم کا اجرا اور انتظام سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس) کے تحت ہوتا ہے۔ ہر بانڈ میں منفرد الفا نیومیرک نمبر درج ہوتا ہے، جس میں الفابیٹ سیریز جبکہ نمبرز بانڈ کا سیریل نمبر ظاہر کرتے ہیں، اور تمام بانڈز کو یکساں طور پر انعام جیتنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
40,000 روپے مالیت کے پریمیم پرائز بانڈ کے انعامات
پہلا انعام: 8 کروڑ روپے
دوسرا انعام: 3 کروڑ روپے، جن میں تین انعامات شامل ہیں
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
تیسرا انعام: 5 لاکھ روپے
ستمبر 2025 کی قرعہ اندازی کے نتائج
پہلا انعام (8 کروڑ روپے): بانڈ نمبر 095187
دوسرا انعام (3 کروڑ روپے): بانڈ نمبرز 529927, 627732, 771967
تیسرا انعام: مختلف بانڈ ہولڈرز میں تقسیم ہوا
ٹیکس کٹوتی
حکومتی پالیسی کے مطابق پریمیم پرائز بانڈز اور ان پر ملنے والا منافع زکوٰۃ کی لازمی کٹوتی سے مستثنیٰ ہیں، تاہم منافع اور انعامی رقم دونوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس موجودہ حکومتی شرح کے مطابق لاگو ہوگا۔
وائلیشن کے عادی گروہ نے ٹریفک پولیس کے چالانوں سے بچنے کے لئے ہڑتال کی سنگین دھمکی دے دی
کسٹمرز اور سرمایہ کار 10 دسمبر کی قرعہ اندازی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہ سال کی آخری بڑی ڈرا ہے جس میں کروڑوں روپے کے انعامات رکھے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے پریمیم پرائز بانڈ کروڑ روپے ہزار روپے ہوتا ہے روپے کے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم