پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2700 روپے کمی ہو گئی ہے۔
ملک میں فی تولہ سونا 2700 روپے کمی کے بعد 444,162 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 2315 روپے کمی کے بعد 380,797 روپے کا ہو گیاہے۔
اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 349,076 روپے ہوگئی۔
جبکہ عالمی بازار میں سونا 27 ڈالر کمی کے بعد 4218 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2700 روپے کا اضافہ ہوا تھا جس کے بعد فی تولہ سونا 446,862 روپے کا ہوگیا تھا جبکہ 10 گرام سونا 2315 روپے اضافے کے بعد 383,112 روپے کا ہو گیاتھا۔
اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 351,198 روپے ہوگئی تھی جبکہ عالمی بازار میں سونا 27 ڈالر اضافے کے بعد 4245 ڈالر فی اونس کا ہوگیاتھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈالر سونے کی قیمت سونے کی قیمت میں کمی فی تولہ سونا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈالر سونے کی قیمت سونے کی قیمت میں کمی فی تولہ سونا سونے کی قیمت میں روپے کا فی تولہ کے بعد
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔