سعودی عرب کا بڑا اعلان: فلسطین کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سعودی عرب کا بڑا اعلان: فلسطین کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 December, 2025 سب نیوز
ریاض:(آئی پی ایس) سعودی عرب نے فلسطینی خزانے کی مالی مدد کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ فراہم کر دی ہے۔
یہ رقم عمان میں سعودی سفارت خانے میں وزیر منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون اسطفان سلامہ نے سعودی سفیر برائے اردن و ریاستِ فلسطین کے غیر مقیم کمشنر شہزادہ منصور بن خالد بن فرحان آل سعود سے ملاقات کے دوران وصول کی۔
سعودی عرب کی یہ مالی امداد 2025 میں فلسطینی اتھارٹی کی مسلسل حمایت کا حصہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے کی طرف سے مختلف صنعتی یونٹس پر چھاپے افسوس ناک ہیں، عاطف اکرام شیخ سی ڈی اے کی طرف سے مختلف صنعتی یونٹس پر چھاپے افسوس ناک ہیں، عاطف اکرام شیخ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائلین کی شکایات کے ازالے کیلئے آن لائن سسٹم متعارف کرا دیا ہم کسی سے نہیں ڈرتے، ہمت ہے تو صوبے میں گورنر راج لگا کر دکھائیں: سہیل آفریدی کا چیلنج معین علی بھی آئی پی ایل چھوڑ کر ایچ بی ایل پی ایس ایل کھیلنے کے لیے تیار سہیل آفریدی کیخلاف ضابطہ اخلاق کیس، الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار پرتحریری جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبروں کی شدید مذمتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔