سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعاون کے لیے رابطے
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ اور سعودی عرب کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے دو طرفہ فوجی روابط اور تعاون کو بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ سعودی فوج کی مشترکہ کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حمد السلمان نے لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب جنرل پیری سے ملاقات کی ،جس کے دوران دونوں اعلیٰ فوجی عہدے داروں نے دوطرفہ فوجی تعلقات بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور اس سلسلے میں رابطوں کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔دونوں کمانڈروں نے علاقائی اور عالمی سطح پر جاری پیش رفت میں استحکام کی کوششوں کو تقویت دینے کی کوششوں میں اضافے پر بھی زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔