گھریلو خرچ اور نفقہ کے مسائل
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
1۔ہر آدمی پر نکاح کے بعد، جب بیوی اس کے پاس ہو، نفقہ واجب ہے (شامی)۔
2۔بیوی مریضہ ہو اور شوہر کے گھر میں ہو تو اس کا کھانا کپڑا وغیرہ بہر صورت واجب ہے (شامی)۔
3۔بیوی گھریلو کوئی کام نہ کرتی ہو اور شوہر کے گھر میں ہو تب بھی اس کا نفقہ لازم ہے (شامی)۔
4۔اگر بیوی مستقل ملازمہ ہو، دن بھر ملازمت میں رہتی ہو۔ اور دن کے گھریلو کام کاج، شوہر کا ضروری کام نہ کر سکتی ہو، گو رات میں گھر ہی رہتی ہو تو ایسی صورت میں اس کا نفقہ لازم نہیں (شامی)۔
5۔اگر عورت دن میں رہتی ہو اور رات میں گھر میں نہ رہتی ہو تو اس کا نفقہ شوہر کے ذمے لازم نہیں (شامی)۔
6۔نفقہ اور گھریلو خرچ میں شوہر کی آمدنی کے مطابق گھریلو خرچ لازم ہوگا (شامی)۔
7۔سال میں دو کپڑے، گرمی اور سردی کی مناسبت سے لازم ہوں گے (شامی)۔
8۔ایسا لباس جس سے بدن نظر آئے یا بانہہ کھلے رہیں، جیسا کہ آج کل ریڈیمیڈ کپڑوں میں ہوتا ہے جائز نہیں۔ اسلامی اور شرعی لباس پہنانا اور دینا ضروری ہے۔
9۔بیوی کو ایک ایسا کمرہ دینا ضروری ہے جس میں شوہر بیوی کے سوا کسی بھی دوسرے کا کوئی دخل اور اختیار نہ ہو اور نہ اس میں کوئی دوسرا رہتا ہو، خواہ شوہر کا بھائی ہی کیوں نہ ہو (شامی)۔
10۔بیوی کے علاوہ اگر اولاد ہو اور نابالغ ہو تو اس کا نان نفقہ، کھانا، کپڑا، مکان و علاج وغیرہ بھی والد پر ضروری ہے (شامی)۔
11۔صحت مند بالغ لڑکے کے باپ کے ذمے خرچہ واجب نہیں (ہاں! انسانی اخلاقی فریضہ ہے، تا وقتیکہ وہ کمانے نہ لگیں، والد کے ذمے ان کے اخراجات ہیں) (شامی)۔
12۔والدین اگر ضعیف ہوں اور کما سکتے ہوں تب بھی ان کا خرچہ اولاد کے ذمے ہوگا (شامی)۔
13۔اگر بالغ لڑکے اپاہج ہیں، معذور ہیں، کمانے کے لائق نہیں تو ان کا خرچہ والد ہی کے ذمے رہے گا (شامی)۔
14۔بالغ بچہ جب علم دین حاصل کر رہا ہو تو اس کا خرچہ بھی والد کے ذمے ہے (شامی)۔
15۔اگر قریبی رشتے دار میں معذور، اپاہج، دائمی بیمار کوئی لڑکی یا لڑکا ہو اور اس کے والدین، بھائی وغیرہ نہ ہوں یا ہوں تو بہت غریب ہوں تو ایسوں کا نفقہ اور خرچہ بھی رشتے دار میں جو لائق ہو ان کے ذمے واجب ہے (شامی)۔
16۔اگر قریبی رشتے دار نہ ہو، دور کے ہوں تو دور کے رشتے دار پر واجب ہوگا کہ ایسے اپاہج اور معذور کی خدمت اور اس پر ضروری اخراجات کریں (شامی)۔
17۔اگر کوئی اتنا تنگ دست اور غریب ہے کہ بیٹے کو کھلائے گا تو غریب باپ کو نہیں کھلا سکے گا، اگر غریب باپ کو کھلائے گا تو بیٹے کو نہ کھلا سکے گا، تو بیٹے کو کھلائے گا۔ اور بعضوں نے کہا کہ جو ہو بیٹے اور باپ کے درمیان تقسیم کر دے (شامی)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہو تو اس کا رشتے دار کا نفقہ رہتی ہو کے ذمے ہو اور
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔