Jasarat News:
2026-07-24@03:04:57 GMT

گھریلو خرچ اور نفقہ کے مسائل

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

1۔ہر آدمی پر نکاح کے بعد، جب بیوی اس کے پاس ہو، نفقہ واجب ہے (شامی)۔
2۔بیوی مریضہ ہو اور شوہر کے گھر میں ہو تو اس کا کھانا کپڑا وغیرہ بہر صورت واجب ہے (شامی)۔
3۔بیوی گھریلو کوئی کام نہ کرتی ہو اور شوہر کے گھر میں ہو تب بھی اس کا نفقہ لازم ہے (شامی)۔
4۔اگر بیوی مستقل ملازمہ ہو، دن بھر ملازمت میں رہتی ہو۔ اور دن کے گھریلو کام کاج، شوہر کا ضروری کام نہ کر سکتی ہو، گو رات میں گھر ہی رہتی ہو تو ایسی صورت میں اس کا نفقہ لازم نہیں (شامی)۔
5۔اگر عورت دن میں رہتی ہو اور رات میں گھر میں نہ رہتی ہو تو اس کا نفقہ شوہر کے ذمے لازم نہیں (شامی)۔
6۔نفقہ اور گھریلو خرچ میں شوہر کی آمدنی کے مطابق گھریلو خرچ لازم ہوگا (شامی)۔
7۔سال میں دو کپڑے، گرمی اور سردی کی مناسبت سے لازم ہوں گے (شامی)۔
8۔ایسا لباس جس سے بدن نظر آئے یا بانہہ کھلے رہیں، جیسا کہ آج کل ریڈیمیڈ کپڑوں میں ہوتا ہے جائز نہیں۔ اسلامی اور شرعی لباس پہنانا اور دینا ضروری ہے۔
9۔بیوی کو ایک ایسا کمرہ دینا ضروری ہے جس میں شوہر بیوی کے سوا کسی بھی دوسرے کا کوئی دخل اور اختیار نہ ہو اور نہ اس میں کوئی دوسرا رہتا ہو، خواہ شوہر کا بھائی ہی کیوں نہ ہو (شامی)۔
10۔بیوی کے علاوہ اگر اولاد ہو اور نابالغ ہو تو اس کا نان نفقہ، کھانا، کپڑا، مکان و علاج وغیرہ بھی والد پر ضروری ہے (شامی)۔
11۔صحت مند بالغ لڑکے کے باپ کے ذمے خرچہ واجب نہیں (ہاں! انسانی اخلاقی فریضہ ہے، تا وقتیکہ وہ کمانے نہ لگیں، والد کے ذمے ان کے اخراجات ہیں) (شامی)۔
12۔والدین اگر ضعیف ہوں اور کما سکتے ہوں تب بھی ان کا خرچہ اولاد کے ذمے ہوگا (شامی)۔
13۔اگر بالغ لڑکے اپاہج ہیں، معذور ہیں، کمانے کے لائق نہیں تو ان کا خرچہ والد ہی کے ذمے رہے گا (شامی)۔
14۔بالغ بچہ جب علم دین حاصل کر رہا ہو تو اس کا خرچہ بھی والد کے ذمے ہے (شامی)۔
15۔اگر قریبی رشتے دار میں معذور، اپاہج، دائمی بیمار کوئی لڑکی یا لڑکا ہو اور اس کے والدین، بھائی وغیرہ نہ ہوں یا ہوں تو بہت غریب ہوں تو ایسوں کا نفقہ اور خرچہ بھی رشتے دار میں جو لائق ہو ان کے ذمے واجب ہے (شامی)۔
16۔اگر قریبی رشتے دار نہ ہو، دور کے ہوں تو دور کے رشتے دار پر واجب ہوگا کہ ایسے اپاہج اور معذور کی خدمت اور اس پر ضروری اخراجات کریں (شامی)۔
17۔اگر کوئی اتنا تنگ دست اور غریب ہے کہ بیٹے کو کھلائے گا تو غریب باپ کو نہیں کھلا سکے گا، اگر غریب باپ کو کھلائے گا تو بیٹے کو نہ کھلا سکے گا، تو بیٹے کو کھلائے گا۔ اور بعضوں نے کہا کہ جو ہو بیٹے اور باپ کے درمیان تقسیم کر دے (شامی)

 

مفتی محمد ارشاد گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہو تو اس کا رشتے دار کا نفقہ رہتی ہو کے ذمے ہو اور

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری