WE News:
2026-06-03@01:43:22 GMT

حکومت نے سالانہ 56 ارب روپے کی بڑی بچت کیسے کی؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

حکومت نے سالانہ 56 ارب روپے کی بڑی بچت کیسے کی؟

وزیر اعظم شہباز شریف کی جناب سے حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے وزارتوں کو مختلف اقدامات کرنے کی ہدایت کے بعد نہ صرف مختلف وزارتوں کا انضمام کیا گیا بلکہ ہزاروں آسامیاں بھی ختم کردی گئی تھیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کے مطابق حکومت نے 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کرکے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت یقینی بنائی ہے۔

دوسری جانب وزارتوں اور محکموں کے انضمام اور خاتمے کا عمل بھی جاری ہے جس سے مزید مالی نظم و ضبط حاصل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا خسارے میں جانے والی وزارتوں کے خاتمے کا فیصلہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام، مسابقت اور مالی نظم وضبط کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

ان کے مطابق ٹیکس نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن تیزی سے جاری ہے اور ملک کو کیش اکانومی سے ڈاکومِنٹڈ اکانومی کی طرف منتقل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

’ایف بی آر ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ڈاکٹرز، بیوٹی پارلرز اور سیمنٹ سیکٹر کے آڈٹ شروع کر رہا ہے۔‘

مزید پڑھیں: وزارت خزانہ نے کون سے سرکاری ادارے ضروری قرار دیدیے؟

محمد اورنگ زیب نے کہا کہ اوسط قرض میچورٹی بڑھ کر 4 سال ہو گئی ہے جس سے ری فائنانسنگ رسک کم ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال معاشی نمو 3.

5 فیصد رہنے کا امکان ہے اور آئندہ سال یہ 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ درمیانی مدت میں گروتھ 6 سے 7 فیصد تک جانے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: مالی سال 2025 میں وفاقی خسارہ کم ہو کر 7.1 ٹریلین روپے رہا، وزارت خزانہ کا دعویٰ

وزیر خزانہ نے کہا کہ کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری نظام فعال ہونے کے قریب ہے جبکہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق نجی سیکٹر اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے، 4 دسمبر کو 11 ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراجات استحکام اسلام اباد این ایف سی پاکستان بزنس کونسل جامع اصلاحات ڈیجیٹل ڈیجیٹلائزیشن ری فائنانسنگ ریگولیٹر قرض کرپٹو نظم وضبط

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اخراجات استحکام اسلام اباد این ایف سی پاکستان بزنس کونسل جامع اصلاحات ڈیجیٹل ڈیجیٹلائزیشن ری فائنانسنگ ریگولیٹر کرپٹو کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم