سندھ بلڈنگ،کراچی مقبول کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں بلند عمارتوںکی دوڑ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ پر سنگین الزامات پلاٹ نمبر 1اور 2پر غیرقانونی منزلیں تعمیر
بلڈنگ کنٹرول قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی، رہائشی بنیادی سہولیات سے محروم کر دیے
معروف کراچی مقبول کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں خصوصاً پلاٹ نمبر 1اور 2پر غیرقانونی طور پر بلند ہوتی عمارتیں شہریوں کے لیے مسائل کا باعث بن رہی ہیں، جبکہ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار پر ان غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ’سٹی مافیا‘سے ملی بھگت کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق،بلڈنگ افسران سوسائٹی کے پلاٹ نمبر 1اور 2پر بلڈنگ کنٹرول کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کنسٹرکشن مافیا کے خلاف کارروائی روکنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔سوسائٹی کے متعدد رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ بلاک 3پلاٹ نمبر 1اور 2پر غیرقانونی طور پر تعمیر کی جانے والی بلند و بالا عمارتیں منظوری شدہ پلان کے برعکس ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ انفرااسٹرکچر پر دباؤ بڑھنے سے نہ صرف پرانی عمارتوں کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، بلکہ ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سوسائٹی انتظامیہ کے اندرونی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ پلاٹ نمبر 1اور 2پر قانونی حد سے زیادہ منزلیں تعمیر کرنے والے بلڈرز کے خلاف شکایتیں درج ہونے کے باوجود، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کی نگرانی میں متعلقہ محکموں نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔ایک نامعلوم ملازم کے مطابق، پلاٹ نمبر 1اور 2کے بلڈرز کے خلاف کیسز کو جان بوجھ کر کمزور رکھا جاتا ہے ، نوٹسز پر عملدرآمد نہیں ہوپاتا، اور جرمانے کیے جانے کے باوجود تعمیراتی کام جاری رہتے ہیں۔ یہ سب اوپر کی ملی بھگت سے ہی ممکن ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے تمام الزامات کی تردید کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے ، ہم ہمیشہ قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں۔بلاک 3پلاٹ نمبر 1اور 2 کے معاملے پر بھی مناسب کارروائی جاری ہے ۔کچھ لوگ ذاتی مفادات کے تحت ہمارے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ تمام تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔تاہم، رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ پلاٹ نمبر 1اور 2پر ہونے والی غیرقانونی تعمیرات سمیت اس اسکینڈل کی ایماندارانہ تحقیقات کی جائے اور سوسائٹی کے اصل مسائل کو حل کرنے کے لیے شفاف اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ شہریوں کو ان کا جائز حق مل سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پلاٹ نمبر 1اور 2پر کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔