data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: ملک بھر میں چینی کی قیمتوں کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرتا نظر آرہا ہے  جب کہ کراچی اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں شامل ہوچکا ہے۔

سندھ اور پنجاب میں کرشنگ سیزن باقاعدہ شروع ہوچکا ہے اور درآمد شدہ چینی کے بڑے ذخائر بھی ملک میں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود چینی کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ رہی ہیں، جس سے عوام میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جارہی ہے۔

ہول سیل مارکیٹ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ سپلائی میں اچانک کمی اور ملوں کی جانب سے لامتناہی تاخیر نے قیمتوں کو غیر معمولی رفتار سے اوپر دھکیل دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم  کا کہنا ہے کہ کراچی کی تھوک مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت پہلی بار 202 روپے کی حد عبور کر گئی ہے، جو ماضی میں کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 روز سے سندھ کی شوگر ملوں نے کراچی کی تھوک مارکیٹوں میں سپلائی مکمل طور پر روک رکھی ہے، جس نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ مارکیٹ کی اندرونی سرگرمیوں سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ قیمتوں کو اوپر رکھنے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت چینی کی ترسیل کو محدود کیا جارہا ہے، جس کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ دیگر صوبوں میں بھی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں اس وقت چینی کی تھوک قیمت 175 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جب کہ خیبرپختونخوا میں یہی قیمت 200 روپے کی سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔

رؤف ابراہیم کے مطابق کراچی میں صورتِ حال سب سے زیادہ سنگین اس لیے ہے کہ خوردہ سطح پر چینی 210 سے 215 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے اور عوام آنے والے دنوں میں مزید اضافے کے خدشات سے پریشان ہیں۔ ہول سیل سپلائی بند ہونے کے باعث قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان فوری طور پر نظر نہیں آ رہا۔

چیئرمین ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ گنے کے کاشتکاروں سے 350 سے 400 روپے من کی قیمت پر گنا خریدا گیا ہے، جس سے فی کلو گنے کی لاگت تقریباً 10 روپے بنتی ہے۔ اس حساب سے چینی کی موجودہ قیمتوں میں اس حد تک اضافہ کسی صورت بھی پیداوار یا لاگت کے تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی قیمت میں اضافہ پیداوار نہیں بلکہ مارکیٹ میں مصنوعی بحران اور شوگر ملوں کی جانب سے مبینہ طور پر تیار کی گئی کارٹیلائزیشن کا نتیجہ ہے۔

رؤف ابراہیم نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں شوگر مافیا کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کی ہے، تاہم حکومتی سطح پر اس معاملے پر مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ آئی ایم ایف کی نشاندہی غلط نہیں اور حکومت کو عوامی مفاد میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چینی جیسے روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت کو مصنوعی مہنگائی سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو بحران مزید گہرا ہوگا اور عام شہری کے لیے چینی خریدنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے چینی کی ہول سیل فی کلو کی گئی

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا