وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں مسلسل تاخیر پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خط میں منصوبے پر طویل تعطل پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ منصوبے کا 35 سال بعد بھی شروع نہ ہونا وفاق اور صوبے کے درمیان عدم اعتماد ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بے اختیار لوگوں سے مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے تحت باقی تینوں صوبوں کے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، صرف سی آر بی سی لیفٹ کینال منصوبے پر پیشرفت نہیں ہوئی۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ 2016ء میں سی سی آئی نے منصوبے کی فنانسنگ کا منصوبہ بنایا، 65 فیصد وفاق اور 35 فیصد رقم خیبر پختونخوا کے ذمے مقرر کی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے منصوبے جان بوجھ کر سرد خانےمیں ڈال دیے ہیں، ایکنک نے اکتوبر 2022ء میں 189 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی، عمل درآمد نہ ہوسکا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ واپڈا کی جانب سے پروکیورمنٹ اور پری کوالیفکیشن عمل میں تاخیر کی جارہی ہے، صوبائی حکومت نے زمین کے حصول کےلیے 25-2024ء میں 2 ارب روپے جاری کیے اور رواں مالی سال میں مزید 5 ارب روپے مختص کیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ واپڈا کی جانب سے لینڈ ایکوزیشن بھی سست روی کا شکار ہے، سال 26-2025 میں وفاقی حکومت نے صرف 100 ملین روپے کی پی ایس ڈی پی الاٹمنٹ کی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبہ معیشت اور زراعت کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، منصوبہ سالانہ 38 ارب روپے کا معاشی فائدہ دے سکتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ منصوبہ 2 اعشاریہ 8 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب کرے گا، وفاق فوری فنڈنگ فراہم کرکے منصوبے پر عملی کام بلا تاخیر شروع کرائے، مزید تاخیر سے صوبے کے عوام میں شدید بے چینی اور اعتماد کا بحران پیدا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے خیبر پختونخوا کے منصوبے ارب روپے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔