data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251125-08-26
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں تاخیر پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لکھا ہے کہ چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے کا 35 سال سے شروع نہ ہونا عدم اعتماد پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ چاروں صوبوں کے منصوبوں میں سے صرف سی آر بی سی کینال پر پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ دیگر صوبوں کے آبپاشی منصوبے1991کے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے تحت مکمل ہوچکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی سی آئی نے منصوبے کی فنانسنگ 65 فیصد وفاق اور35 فیصد صوبے کے ذمے مقررکی تھی، تاہم وفاق نے خیبر پختونخوا کے منصوبے جان بوجھ کر سرد خانے میں ڈال دیے، ایکنک نے 2022 میں 189 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی مگر منصوبہ شروع نہ ہوسکا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ واپڈا مسلسل پروکیورمنٹ اور کوالیفکیشن پراسیس میں تاخیر کر رہا ہے، حکومت نیزمین کے حصول کے لیے 2ارب روپے جاری اور مزید 5 ارب روپے مختص کیے، واپڈا کی لینڈ ایکوزیشن بھی سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وفاقی حکومت کی صرف 100ملین روپے کی الاٹمنٹ غیرسنجیدہ رویہ ہے، چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبہ دہشت گردی سے متاثر علاقوں کیلئے اہم ہے، یہ منصوبہ 38 ارب روپے کا معاشی فائدہ دے سکتا ہے۔ سہیل آفریدی نے خط میں مزید کہنا تھا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال سے 2.

8 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب ہوگی، اس منصوبے میں تاخیر سے عوام میں اعتماد کا بحران پیدا ہو گا۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چشمہ رائٹ بینک کینال میں تاخیر

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن