کراچی:(نیوزڈیسک)ایف آئی اے افسران کی جانب سے بلڈر سے دو کروڑ روپے رشوت طلب کرنے بصورت دیگر جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی کا انکشاف ہوا ہے، بلڈر نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا۔

کراچی میں تعمیراتی شعبے سے وابستہ ایک معروف بلڈر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کراچی کے چند افسران پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹے حوالہ ہنڈی کے کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر ان سے بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے، اس معاملے نے وزیراعظم کی کاروبار دوست پالیسی کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا کردیے۔

شہر کےعلاقے شہید ملت روڈ پر زیر تعمیر رہائشی منصوبے کے مالک اور معروف بلڈر فرحان نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک تفصیلی خط تحریر کرکے شکایت درج کرائی ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے کراچی کے کچھ افسران نے ان کے دفتر پر حوالہ ہنڈی کے شبے میں چھاپہ مارا مگر چھاپے کے دوران کوئی خلاف قانون چیز یا رقم برآمد نہ ہونے کے باوجود افسران نے دو کروڑ روپے مانگے ہیں۔

بلڈر کے مطابق مذکورہ افسران نے پہلے دو کروڑ روپے مانگے اور اب دباؤ ڈال کر رقم ڈیڑھ کروڑ روپے کردی، انہیں دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر رقم ادا نہ کی تو ان کے خلاف من گھڑت حوالہ ہنڈی کا مقدمہ بنا دیا جائے گا۔

فرحان کا مزید کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برس سے تعمیراتی شعبے میں کام کر رہے ہیں اور ان کے پروجیکٹ کی تمام بکنگ کی رقوم، لین دین اور مالی شواہد مکمل دستاویزات کے ساتھ موجود ہیں،قانون کے مطابق رجسٹرڈ کاروبار چلانے کے باوجود اگر ہمیں ایسے الزامات میں پھنسا کر ہراساں کیا جائے گا تو کاروبار کیسے چلے گا؟

انھوں نے اعلیٰ حکومتی شخصیات اور وزیر اعظم سے بھی اپیل کی ہے کہ معاملے کا فورا نوٹس لیا جائے تاکہ ملک کی کاروبار دوست پالیسی کو نقصان نہ پہنچے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے کروڑ روپے افسران نے

پڑھیں:

موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔

 پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف