ایف آئی اے افسران نے دو کروڑ رشوت مانگ لی، بلڈر کا ڈی جی کو خط
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
ایف آئی اے افسران کی جانب سے بلڈر سے دو کروڑ روپے رشوت طلب کرنے بصورت دیگر جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی کا انکشاف ہوا ہے، بلڈر نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا۔
کراچی میں تعمیراتی شعبے سے وابستہ ایک معروف بلڈر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کراچی کے چند افسران پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹے حوالہ ہنڈی کے کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر ان سے بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے، اس معاملے نے وزیراعظم کی کاروبار دوست پالیسی کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا کردیے۔
شہر کےعلاقے شہید ملت روڈ پر زیر تعمیر رہائشی منصوبے کے مالک اور معروف بلڈر فرحان نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک تفصیلی خط تحریر کرکے شکایت درج کرائی ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے کراچی کے کچھ افسران نے ان کے دفتر پر حوالہ ہنڈی کے شبے میں چھاپہ مارا مگر چھاپے کے دوران کوئی خلاف قانون چیز یا رقم برآمد نہ ہونے کے باوجود افسران نے دو کروڑ روپے مانگے ہیں۔
بلڈر کے مطابق مذکورہ افسران نے پہلے دو کروڑ روپے مانگے اور اب دباؤ ڈال کر رقم ڈیڑھ کروڑ روپے کردی، انہیں دھمکی دی جا رہی ہے کہ اگر رقم ادا نہ کی تو ان کے خلاف من گھڑت حوالہ ہنڈی کا مقدمہ بنا دیا جائے گا۔
فرحان کا مزید کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برس سے تعمیراتی شعبے میں کام کر رہے ہیں اور ان کے پروجیکٹ کی تمام بکنگ کی رقوم، لین دین اور مالی شواہد مکمل دستاویزات کے ساتھ موجود ہیں،قانون کے مطابق رجسٹرڈ کاروبار چلانے کے باوجود اگر ہمیں ایسے الزامات میں پھنسا کر ہراساں کیا جائے گا تو کاروبار کیسے چلے گا؟
انھوں نے اعلیٰ حکومتی شخصیات اور وزیر اعظم سے بھی اپیل کی ہے کہ معاملے کا فورا نوٹس لیا جائے تاکہ ملک کی کاروبار دوست پالیسی کو نقصان نہ پہنچے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے کروڑ روپے افسران نے دو کروڑ
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل