کراچی پولیس نے شہریوں کو گاڑیوں اور موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹس ٹھیک کروانے کیلیے 5 دسمبر تک کی مہلت دے دی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی پولیس اب شہر میں جعلی، غیر قانونی اور ناقابلِ شناخت نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف سخت اور بلا تفریق کارروائی کرے گی۔

پولیس نے ہدایت کی ہے کہ شہری 5 دسمبر 2025 تک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس درست کروالیں بصورت پولیس ان کی گاڑیاں یاسائیکلوں کو ضبط کیا جائے گا۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے شہر میں جعلی، غیر قانونی اور ناقابلِ شناخت نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف سخت اور بلا تفریق کارروائی کے احکامات جاری کردیے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہریوں سے گزارش کی گئی یے کہ 5 دسمبر 2025 تک اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کو درست اور قانون کے مطابق بنوا لیں، بصورتِ دیگر، قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور گاڑیاں ضبط کر لی جائیں گی اور قانون کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او اورنگی ٹاوٴن انسپکٹرمحمد یوسف مہر نے ایڈیشنل آئی کراچی کے جاری ہدایت کے حوالے سے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس احکامات پر موثر طریقے سے عمل درآمد کرائی گی۔

انہوں نے بتایا کہ ہر تھانہ اپنی حدود میں اسنیپ چیکنگ کرتا ہے، اب ان احکامات کے تحت 5 دسمبر کے بعد تمام گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کو چیکنگ کے دوران روک کر چیک کیا جائے گا، چیکنگ کے دوران پولیس دیکھے گی کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر جو نمبر پلیٹ آویزاں ہیں وہ غیر قانونی یا ناقابل شناخت تو نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ شکایات سامنے آئی ہیں کہ کئی شہری اپنی گاڑی اور موٹر سائیکل پر اپنی نمبر پلیٹ آویزاں نہیں کرتے جبکہ کئی نمبر پلیٹوں پر ہندسے مکمل نہیں ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای چالان سسٹم نافذ ہونے کے بعد شہریوں کی جانب سے نمبر پلیٹ میں چھیڑ چھاڑ اور کی شکایات سامنے آئیں، کئی گاڑی یا موٹر سائیکل والوں نے چالان سے بچنے کے لیے نمبر پلیٹس یا تو اتار دی ہیں یا ان کو مختلف طریقوں سے چھپا لیا یے۔

کئی افراد نے اپنی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں پر نمبر پلیٹس  قوانین کے مطابق نہیں لگائی، اس لیے پولیس کو کارروائی کا اختیار دیا گیا یے۔انہوں نے بتایا کہ علاقائی تھانہ کی پٹرولنگ موبائل یا اسنیپ چیکنگ کے دوران پولیس مشکوک یا ناقابل شناخت نمبر پلیٹ کی حامل گاڑی یا موٹر سائیکل کو روکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ گاڑی یا موٹر سائیکل والے سے چیکنگ کے دوران گاڑی کے کاغذات طلب کیے جائیں گے ۔ان کاغذات پر درج گاڑی کے نمبر، انجن نمبر یا چیسس نمبر کی ایکسائز کی آن لائن ویب سائٹ پورٹل یا سی پی ایل سی سے تصدیق کی جائے گی اور پھر دیکھا جائے گا کہ گاڑی کلیئر ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ گاڑی یا موٹر سائیکل سوار کی ذاتی معلومات تلاش ایپ سے بائیو میٹرک تصدیق سے کی جائے گی، ایپ سے مذکورہ شخص کی تمام ذاتی تفصیلات اور کریمنل ریکارڈ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں واضح ہوسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی یا موٹر سائیکل چوری کی ہوگی تو متعلقہ تھانہ میں درج مقدمہ کے تحت اس شخص کے خلاف گرفتاری اور گاڑی و موٹر سائیکل ضبط کی جائے گی۔

ناقابل شناخت یامشکوک موٹر سائیکل یا گاڑی کی نمبر آویزاں ہونے کی صورت میں اس کو دفعہ 550 کے تحت پولیس اس گاڑی یاموٹر سائیکل کو ضبط کرلے گی جبکہ قانونی کارروائی کے بعد اس گاڑی یا مو سائیکل کوعدالت سے ریلیز کیا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اگر گاڑی یا موٹر سائیکل کلیئر ہوگی اور اس کی چلانے والے کا ریکارڈ کریمنل ہوگا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق مذید کارروائی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ان احکامات سے کراچی میں قیام امن اور گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کی چوری روک تھام میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کا آغاز 6 دسمبر سے شروع ہوگا اور قانون کی پاسداری نہ  کرنے والوں کے خلاف  سخت ایکشن ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں گاڑی یا موٹر سائیکل انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کے دوران کی نمبر پلیٹس کے مطابق جائے گی کے خلاف گی اور

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار