بلوچستان میں اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کے لیے ’ارلی وارننگ سسٹم‘ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال اور رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، تاہم یہاں پرائمری سطح پر بچوں کی اسکول چھوڑنے کی شرح 59 فیصد ہے، جن میں 61 فیصد لڑکے اور 59 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دو سال میں 3200 بند اسکول فعال کیے گئے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
معاشی مسائل، بچوں سے مزدوری کروانا، اسکولوں تک طویل فاصلے اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اس مسئلے کی اہم وجوہات کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
ارلی وارننگ سسٹمحکومتِ بلوچستان نے تعلیم کے فروغ اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف کروا دیا ہے۔
اس نظام کا بنیادی مقصد ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار ہوں، تاکہ انہیں مناسب تعاون فراہم کرتے ہوئے ان کا تعلیمی سفر برقرار رکھا جا سکے۔
تحقیق اور منصوبہ بندیاسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے یونیسف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے اشتراک سے 2016 سے 2021 تک جاری رہنے والے سروے میں ان وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں کتنے بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور انہیں تعلیمی اداروں میں واپس کیسے لایا جاسکتا ہے؟
اسی جائزے کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ امین درانی کے وژن کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم قائم کیا گیا ہے، جو بچوں کی تعلیم میں تسلسل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سسٹم کا طریقہ کارارلی وارننگ سسٹم کے تحت ہر طالب علم کی کارکردگی، رویے اور حاضری کو باقاعدہ سافٹ ویئر کے ذریعے جانچا جائے گا۔ تعلیمی کارکردگی میں کمی، سیکھنے کے عمل میں دلچسپی کی کمی اور غیر حاضری کی صورت میں نظام خودکار طور پر اس بچے کو ہائی رسک کے طور پر ظاہر کرے گا۔
اس کے بعد اسکول اور والدین کے تعاون سے ایسے بچوں کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ اسکول چھوڑنے سے محفوظ رہیں۔
ڈیجیٹل اور تربیتی اقداماتیہ سسٹم بچوں کی او ایم آر شیٹس اور ڈیجیٹل اسکاننگ کے ذریعے مکمل طور پر منظم اور سائنسی بنیادوں پر کام کرے گا۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سمر زون کے اضلاع میں تدریسی عملے کی خصوصی تربیت بھی مکمل کر لی ہے۔
ابتدائی نفاذ
ابتدائی مرحلے میں ارلی وارننگ سسٹم کی تجرباتی بنیادوں پر صوبے کے 1500 اسکولوں میں چلایا جائے گا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں سو اسکولوں کے سو بچوں کو اس سسٹم سے گزارا جائے گا۔ علاوہ ازیں، اسکولوں میں ڈیجیٹل سہولیات سے بھی آراستہ کیا جائے گا تاکہ تعلیمی عمل مؤثر اور جدید بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارلی وارننگ سسٹم بلوچستان بلوچستان اسکول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارلی وارننگ سسٹم بلوچستان بلوچستان اسکول ارلی وارننگ سسٹم اسکول چھوڑنے اسکولوں میں جائے گا بچوں کی کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔