ہم نے پانچ سال بہت محنت کی، ضمیر مطمئن ہے، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا الوداعی خطاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
حاجی گلبر خان نے پیر کے روز اسمبلی سے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ ہمارا ترقیاتی بجٹ انتہائی ناکافی ہے، سالانہ ہمیں 20 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملتا ہے، بیس ارب روپے سے کیا ترقی ہو گی۔ جس کیوجہ سے ایک چھوٹا منصوبہ مکمل ہونے میں بھی سات سال لگتے ہیں، اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانا ہمارا مطالبہ ہے اور اس مطالبے کے حل اور جی بی کے مسائل کے حل کیلئے اسمبلی کے ممبران اور تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے پیر کے روز اسمبلی سے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ ہمارا ترقیاتی بجٹ انتہائی ناکافی ہے، سالانہ ہمیں 20 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملتا ہے، بیس ارب روپے سے کیا ترقی ہو گی۔ جس کیوجہ سے ایک چھوٹا منصوبہ مکمل ہونے میں بھی سات سال لگتے ہیں، اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اور وفاق سے این ایف سی ایوارڈ میں اپنا حصہ مانگنا ہو گا۔ جب دوسرے صوبوں اور آزاد کشمیر کو این ایف سی سے حصہ دیا جا سکتا ہے تو ہمیں کیوں ںہیں دیا جا سکتا؟
انہوں ںے کہا کہ ہم نے اپنی بساط کے تحت پانچ سال محنت کی اس پر ہمارا ضمیر مطمئن ہے، اگر ہم نے محنت کم بھی کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے رزلٹ اچھا دیا ہے۔ ہم نے ڈھائی سو سے تین سو ڈاکٹروں کو مستقل کیا، اساتذہ کا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، تین چار ماہ کا وقت لگا کے اس کو بھی حل کیا، وکلاء کا بہت بڑا مسئلہ بھی بہتر انداز میں حل کیا۔ ہم نے لائن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کے ڈی آر اے کا مسئلہ بھی ہم نے حل کیا۔ پیرامیڈیکل سٹآف کو سروس سٹرکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چار نئے ایڈیشنل اضلاع پر عملدرآمد کیا، انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کیلئے ہم نے وزیر اعظم سے 50 میگاواٹ سولر سسٹم کا مطالبہ کیا تھا مگر وزیر اعظم نے 100 میگاواٹ سولر کا منصوبہ دیا جو ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترقیاتی بجٹ کہا کہ ہم ارب روپے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔