کراچی پولیس چیف نے جعلی نمبر پلیٹس لگانے والوں کو ڈیڈ لائن کے ساتھ وارننگ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے غیر قانون اور جعلی نمبر پلیٹس لگانے والے شہریوں کو خبردار کردیا۔ایک بیان میں جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ جعلی اور غیرقانونی نمبر پلیٹس کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔کراچی پولیس چیف نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ شہری 5 دسمبر تک گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس درست کروالیں، بصورت دیگر غیر قانونی نمبر پلیٹس والی گاڑیاں ضبط کی جائیں گی۔واضح رہے کہ سندھ میں اجرک والی نمبر پلیٹس کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے۔دوسری جانب محکمہ ایکسائز کا بتانا ہے کہ سندھ بھر میں تقریباً 65 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں صرف کراچی میں یہ تعداد 33 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔علاوہ ازیں شہر میں ای چالان سسٹم فعال ہونے کےبعد یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ کئی شہریوں نے چالان سے بچنے کے لیے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر جعلی نمبر پلیٹس لگادی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹس
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔