ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے میدان مار لیا، 6 قومی اور6صوبائی نشستوں پرکامیاب
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان میں گزشتہ روز ہونے والے 13 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 12نشستیں حاصل کیں ، ان میں قومی اسمبلی کی 6 میں سے 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ پیپلز پارٹی صرف مظفر گڑھ کے حلقہ پی پی 269 میں کامیاب ہوئی، جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو غیر معمولی طور پر کم ووٹ پڑے۔ این اے 18 ہری پور کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ضمنی انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ اس نشست پر ہوا، مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کو شکست دیدی ، بابر نواز نے 1,63,996 ووٹ حاصل کیے ۔ یہ نشست سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔ این اے 129 لاہور کی نشست پی ٹی آئی کے میاں اظہر کی وفات کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، جس پر موجودہ ضمنی انتخابات میں پی ایم ایل ن کے حافظ میاں محمد نعمان نے 63,441 ووٹ لے کر سب پر سبقت حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 29,099 ووٹ لے سکے۔ این اے 185 ڈیرہ غازی خان 2 سے پی ٹی آئی کی زرتاج گل کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی اس نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے محمود قادر خان 82,416 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ 49,262 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 143 ساہیوال 3 میں ن لیگ کے محمد طفیل جٹ نے 1,36,223 ووٹ حاصل کیے، جب کہ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری 13,220 ووٹ لے سکے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے حسن نواز کی نااہلی پر ختم کی گئی تھی۔ این اے 104 فیصل آباد 10 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے دانیال احمد 52,791 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے، آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 19,262 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 96 فیصل آباد سے پی ایم ایل ن کے بلال بدر چوہدری 93,909 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے، بلال بدر وزیر مملکت طلال چوہدری کے بھائی ہیں۔ پی پی 87 میانوالی میں سابق قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور خان نیازی نے 67,986 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی جبکہ آزاد امیدوار محمد ایاز خان نیازی 3,310 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 98 فیصل آباد 1سے: پی ایم ایل ن کے آزاد علی تبسم 44,388 ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ ان کے مخالف امیدوار محمد اجمل 35,245 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 115 فیصل آباد 18 کے حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد طاہر پرویز 49,049 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے، مخالف محمد اصغر 18,098 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 116 فیصل آباد 19 کی نشست سے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے داماد اور پی ایم ایل ن کے امیدوار احمد شہریار 48,824 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر 11,429 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ نشست بھی پی ٹی آئی کے اسمعیل سیلا کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ پی پی 203 ساہیوال 6 سے پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار محمد حنیف 46,900 ووٹ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار فلک شیر 10,895 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 73 سرگودھا کے حلقے میں پی ایم ایل ن کے سلطان علی رانجھا نے 71,770 ووٹ لے کر میدان مار لیا، مخالف امیدوار مہر محسن رضا 12,970 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی پی 269 مظفر گڑھ 2 ضمنی انتخابات میں یہ واحد حلقہ تھا جہاں سے پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی نے 55,611 ووٹ لے کر ن لیگ کے امیدوار کو شکست دی۔ قبل ازیں پولنگ کل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ اس دوران ووٹرز نے اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔ انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر 2 ہزار 792 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 408 کو انتہائی حساس اور 1,032 کو حساس قرار دیا گیا تھا، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 20 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان مسلم لیگ ن کے ضمنی انتخابات میں پی ایم ایل ن کے آزاد امیدوار کے امیدوار کر کامیاب فیصل آباد کی نااہلی ووٹ لے کر حاصل کی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔