بوگی نمبر10 اور بوڑھا مسافر
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی تزئین و آرائش مکمل۔ وزیر اعظم نے اپ گریڈ شالیمار ٹرین کا افتتاح کردیا۔ اب مسافروں کے لیے جتنی بھی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ان میں مرکزیت مسافروں کی ہوتی ہے اور ان کی اہمیت بھی ہے۔
کراچی ریلوے اسٹیشن تزئین و آرائش ریل میں سفر سے پہلے کی سہولت کے لیے ہے لیکن دوران سفر مسافر کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کو سمجھنے کے لیے ایک سچی روداد پیش خدمت ہے۔ ایک مسافر جس نے 15 نومبر کو سرگودھا سے کراچی تک کا سفر کیا اس کی روداد کچھ یوں ہے۔
اس نے بکنگ کروائی کوچ کی برتھ و سیٹ تھی۔ سرگودھا اسٹیشن پر متعلقہ کوچ تو نہ ملی۔ مسافروں کے دھکے ملے، پوچھنے پر عملے کی طرف سے لاعلمی کا تحفہ ملا۔ بالآخر یہ سوچا کہ فیصل آباد سے مزید معلومات حاصل کی جائیں۔ وہاں بھی کچھ بھی کوئی بتانے سے قاصر تھا ،اب مسافر معلومات کہاں سے حاصل کرتا،اس کے لیے اب یہ نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کہیں سے کوئی معلومات فوری ملنا مشکل نظر آ رہا تھا۔ بالآخر سوچا کہ خانیوال کافی دیر گاڑی رکے گی وہاں مکمل معلومات حاصل ہو جائیں گی۔یہ سوچ کر کچھ امید بندھی کہ اس سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
گمشدہ کوچ شاید اپنی ٹرین کو تلاش کرتے ہوئے آ ملے۔ بوڑھا مسافر سامان اٹھائے ہوئے ایک ایک ڈبے کا نمبر پڑھتا رہا لیکن کسی بوگی پر 10 نمبر درج نہ تھا۔ کم از کم مسافر کو آگاہ کرنا عالمی قوانین کے تحت لازمی تھا۔ مسافروں کی سہولت کے لیے بہت سے اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ انھیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ عالمی ریلوے پالیسیز کے ماہرین اب مسافری مرکزیت پر زور دے رہے ہیں، اگر مسافروں کو ساری توقعات جیسے درست بوگی کا ملنا، اسٹیشن پر رہنمائی سروس، اسٹاف کا تعاون، کسی وجہ سے بوگی کا نہ ہونا تو ایسی صورت میں مسافر کو سیٹ اور برتھ ایڈجسٹ کرکے دینا یہ تو فرض ہے ریلوے کا۔
اگر ایسا نہ ہو سکے تو سخت سردی میں رات کے وقت مسافر انجن سے لے کر آخری ڈبے تک دوڑتا ہی چلا جاتا ہے اور کوئی اس کے سوال کا جواب نہیں دیتا۔ اس مسافر کا کیا قصور ہے جس نے رقم خرچ کرکے سیٹ برتھ بک کروائی جو اسے مل نہ سکی آخر مریض بوڑھا شخص مجبوری کے عالم میں واش روم کے سامنے چادر بچھا کر فرش پر بیٹھ گیا۔ اور یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا رہا۔
ایک سخت سردی اور دوسرے بوڑھا جسم،تیسرے متعلقہ سیٹ نہ ملنے کی پریشانی۔اگر کوئی ریلوے سسٹم اپنے مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کے بجائے اس کی پریشانی کا باعث بنے اور عملے کا کوئی فرد اس کے مسئلے کو حل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس ادارے کے سسٹم کو کیا بہتر اور مثالی کہا جا سکتا ہے۔خرابی کہاں ہے کوئی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔ہر کوئی اسے سرکاری ادارہ اور خود کو احتساب کے عمل سے مبرا سمجھ کر اپنے فرائض سر انجام دے گا تو اس ادارے کا نظام کیسے چلے گا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی شکایات مینجمنٹ اور فیڈ بیک چینلز ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ریلوے نیٹ ورکس کو اس لیے بہتر کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ماحول دوست ہو۔ مسافر دوستانہ ہو۔ ریلوے کی اصلاح سے متعلق تنظیمیں مستقبل کی ریلوے سرمایہ کاری پر تبصرہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ ریلوے ایک سماجی اور اقتصادی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ریلوے ملک کے تجارتی اور صعنتی نظام کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کی خوشحالی اور عوامی سہولتوں کی بر وقت فراہمی میں ریلوے کا جدید نظام اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مگر بنیادی باتیں ہوں گی بوگی نمبر 10 کا نہ ملنا، سیٹ اور برتھ کی بکنگ کرانے پر بھی نیچے فرش پر یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑے کھا کر رات بھر سفر کرتے رہنا۔ بتایا گیا کہ سامنے واش روم میں 23 گھنٹے میں دو یا تین گھنٹے کے لیے ہی پانی دستیاب تھا۔ زیادہ تر واش روم کی کنڈیاں ٹوٹی ہوئی۔ ٹونٹیاں بھی بس نام کی تھیں۔ صفائی بالکل غائب، ہر اسٹیشن پر بہت سے مسافر بوگی میں آ جاتے کھڑے کھڑے سفرکرتے بوڑھی عورتیں، جوان لڑکیاں، چھوٹی بچے، بوڑھے مریض سب کھڑے ہو کر گھنٹوں سفر کرتے رہے کیونکہ بیٹھے ہوئے مسافر اس بات کے لیے رضا مند نہیں ہوتے کہ ان کو تھوڑی سی جگہ دے دیں۔ کیونکہ مسافروں کا سفر دور کا ہوتا ہے اس لیے کھڑے مسافروں کے لیے سفر آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر بوڑھے مسافروں کہ بہت دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کھڑے مسافر اس بات کے متمنی ہوتے کہ ہمیں تھوڑی سی جگہ دینا ان کا حق بنتا ہے۔ کاش! ہم لوگ کسی کو تھوڑی سی سہولت دینے کی خاطر معمولی سی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ عوام کو ریل کے سفر کے دوران ریل کے اندر سہولیات پہنچانا جیسے پانی کا ہونا، واش روم صاف اور ٹھیک حالت میں ملیں، مسافر کے بیٹھنے کے لیے بینچز ہوں۔ ایک ایک بوگی میں ضرورت سے زیادہ افراد کا بھر جانا اور کھڑے کھڑے 10 سے 12 گھنٹے کا سفرکرنا، یہ کس سہولت کا نام ہے۔
تزئین و آرائش پر اتنی زیادہ رقم خرچ کرنے کے بجائے مسافروں کو سہولت دیں، دوران سفر سہولت دینے پر رقم خرچ کریں۔مسافروں کو دوران سفر جتنی زیادہ سہولتیں ملیں گی،سفر اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔مسافروں کا اعتماد بھی بڑھے گا اور زیادہ سے زیادہ مسافر ریلوے کے ذریعے سفر کو ترجیح دیں گے ، اس سے ریلوے کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ریلوے کے اعلیٰ افسران ذرا سی توجہ دیں تو ریلوے کے بہت سے مسائل فوری حل ہو سکتے ہیں۔ ریلوے کے مسائل عملے کی کوتاہی اور لاپروائی سے پیدا ہوتے ہیں، عملے کے کام کی نگرانی کی جائے تو تو نظام بہتر ہو سکتا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ پاکستان ریلوے کے مسائل مشکلات مصیبتیں عذاب کو سمجھنا ہے تو وزیر ریلوے یا وزیر اعظم بھیس بدل کر ایک ایک بوگی میں جا کر بیٹھیں۔ کہیں کھڑے ہو کر مسافروں کے ساتھ سفر کریں، بار بار ٹوائلٹ چیک کریں، کب پانی آتا ہے اورکب ٹونٹیاں پانی سے فارغ ہو جاتی ہیں۔ ایک واش روم اور مسافروں کی قطار یعنی ایک انار سو بیمار کا عملی مشاہدہ خود کریں۔ مسافروں سے ان کے سفرکا احوال خود معلوم کریں، اس ان پڑھ دیہاتی غریب مسکین مسافر کو بتائیں کہ ریلوے اسٹیشن پر واش روم، فوری ٹکٹ کا انتظام، اے ٹی ایم مشین، لاؤنج انتظار گاہیں، مسافروں کے لیے جدید انفارمیشن ڈیسک، ڈیجیٹل کمپلینٹ سسٹم کا قیام اور آپ کے لیے بہت ساری سہولتیں فراہم ہو گئی ہیں اور حکومت یہ ساری سہولتیں فراہم کرے گی، کرتی رہی ہے اور آیندہ بھی کرتی رہے گی۔
لیکن اس بوڑھے غریب مریض مسافر کو آج بھی اس سوال کا جواب درکار ہے جو صرف وزیر اعظم یا وزیر ریلوے دے سکتے ہیں کہ آخر سرگودھا سے ٹرین کی بوگی نمبر 10 کہاں غائب ہو گئی تھی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسافروں کے مسافروں کو اسٹیشن پر مسافر کو ریلوے کے واش روم کے لیے ہے اور
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔