اپنے ایک انٹرویو میں شام پر قابض باغیوں کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ شام کے مفاد میں ہوگا تو ہم اسے جاری رکھیں گے، اگر نہیں، تو اس پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس امر کی بھی یقین دہانی کروائی کہ ہم نہیں چاہتے کہ شام میں روس کی موجودگی محض نمائشی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ "شام" پر قابض باغیوں کے وزیر خارجہ "اسعد حسن الشیبانی" نے کہا کہ "دمشق" میں نیا حکومتی ڈھانچہ، "روس" کے ساتھ تعلقات کو از سرِنو ترتیب دے رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لندن سے چھپنے والے "المجلہ" میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ 8 دسمبر 2024 کو سابق صدر "بشار الاسد" کی حکومت کے خاتمے کے لئے شروع ہونے والے آپریشن "ردع العنوان" سے قبل، باغیوں نے روسی فضائیہ کو براہ راست جھڑپوں میں مداخلت سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی کہ روس، شام میں اثر و رسوخ چاہتا ہے یا بشار الاسد کی موجودگی؟۔ اسی سوال کے پیش نظر ہم نے روسیوں کو قائل کیا کہ بشار الاسد کا دھڑن تختہ ہونے کا مطلب شام سے روس کا انخلاء نہیں۔ اس جملے نے ماسكو كو متاثر كیا۔ اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں باغی حکومت کے وزیر خارجہ نے دمشق اور ماسکو کے درمیان سابقہ معاہدوں کے بارے میں کہا کہ اگر کوئی معاہدہ شام کے مفاد میں ہوگا تو ہم اسے جاری رکھیں گے، اگر نہیں، تو اس پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس امر کی بھی یقین دہانی کروائی کہ ہم نہیں چاہتے کہ شام میں روس کی موجودگی محض نمائشی ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بشار الاسد انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا