حکومت کی 28 ویں آئینی ترمیم لانے کی تردید، ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں،طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کچھ وزراء کے حالیہ بیانات کے باوجود اعلیٰ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح طور پر اس تاثر کی تردید کی کہ حکومت 28ویں آئینی ترمیم کے کسی پیکج پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نےنجی اخبار سے بات کرتے ہوئے اپنی اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے کہا: ’’کوئی 28ویں ترمیم زیر غور نہیں ہے۔‘‘ وزیراعظم ہاؤس کے ایک اہم عہدیدار نے بھی بتایا کہ وزیرِاعظم آفس میں کسی نئی آئینی ترمیم سے متعلق کچھ نہیں دیکھا جا رہا۔ ذرائع نے کہا ’’ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں،‘‘ ڈاکٹر طارق نے وضاحت کی کہ اس معاملے پر کوئی اجلاس نہیں ہوا اور موجودہ بحث کو میڈیا کی پیدا کردہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے پیکج میں شامل کچھ تجاویز جو اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث خارج کر دی گئی تھیں آئندہ کبھی دوبارہ زیر غور آ سکتی ہیں لیکن فی الحال 28ویں ترمیم شروع کرنے کا کوئی عمل جاری نہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’اس وقت 28ویں آئینی ترمیم پر کوئی غور نہیں ہو رہا‘‘ اور بتایا کہ انہوں نے اس بات کی وزیر قانون سے دوبارہ تصدیق بھی کر لی ہے۔ ’’جو بھی 28ویں ترمیم کے بارے میں پوچھ رہا ہے، اسے یہی جواب دیا جا رہا ہے کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔‘‘چند وزرا کی جانب سے 28ویں ترمیم کا ذکر کیے جانے کے بعد قیاس آرائیاں بڑھ گئیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ’’جلد 28ویں آئینی ترمیم‘‘ متعارف کرائے گی۔ چنیوٹ میں صحافیوں سے گفتگو میں مبینہ طور پر انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کا تعلق مقامی حکومتوں، نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اور صحت سے متعلق امور سے ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان موضوعات پر مشاورت جاری ہے اور اگر اتفاقِ رائے ہوا تو حکومت اس سمت میں پیش قدمی کر سکتی ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عدیل ملک کے بارے میں بھی میڈیا میں یہ رپورٹس آئیں کہ انہوں نے 28ویں ترمیم سے متعلق بات کی ہے۔ تاہم، گزشتہ چند دنوں میں متعدد کوششوں کے باوجود انہوں نے نہ موبائل کالز اٹینڈ کیں اور نہ ہی کوئی جواب دیا۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کوئی تجویز زیر غور نہیں 28ویں ا ئینی ترمیم 28ویں ترمیم انہوں نے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔