دی اکانومسٹ کی خصوصی رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے کہا ہے کہ خصوصی رپورٹ انٹرویوز کی بنیاد پر ہے اور جو مواد ہمیں ملا، اس کا صرف 10 فیصد رپورٹ میں ہے، بہت سی چیزیں چھاپی نہیں جا سکتی تھیں۔سینئر صحافی بشریٰ تسکین نے بتایا کہ پہلے بھی بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے پر رپورٹنگ ہوتی رہی ہے، لیکن ہم نے اس پر کام شروع کیا تو ہمارے لیے بہت ساری معلومات حیران کن تھیں، سب سے زیادہ بشریٰ بی بی کا روحانی بصیرت کا لبادہ جو اوڑھا ہوا تھا اور عمران خان کو جس طرح انہوں نے کنٹرول کیا تو اس کے نتیجے میں ملک کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سیاسی وعدے صرف باتوں کی حد تک تھے، ہم نے اس میں سے کسی ایک پر بھی عمل ہوتے نہیں دیکھا، ہم نے ان کی پارٹی کے سینئر ممبران، ان کی کابینہ میں شامل وزرا، ان کے اراکین پارلیمنٹ سمیت درجنوں افراد سے رابطہ کیا تو اکثریت نے اعتراف کیا کہ عمران خان کی ناکامی کی وجوہات اسٹیلشمنٹ کے عنصر کے بجائے انتظامی تھیں۔کالے جادو اور سیاست میں مداخلت سے متعلق سوال پر صحافی بشریٰ تسکین کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یاد ہو کہ جب بشریٰ بی بی کی شادی ہوئی تھی تو جمائمہ نے ایک ٹوئٹ کیا تھا، جس میں کالے جادو کا تذکرہ تھا لیکن بین الاقوامی میڈیا نے اس معاملے کو اس طرح سے رپورٹ نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے اس معاملے کو دیکھنا شروع کیا تو ہمارے لیے یہ بہت مشکل تھا کہ ہم اپنے ادارے اور بین الاقوامی آڈینس کو کالے جادو یا روحانیت سے متعلق کس طرح سے سمجھائیں گے حالانکہ پاکستان میں تو اس طرح کے معاملات عام ہیں لیکن خوش قسمتی سے ہم جن جن لوگوں سے ملے اور جو ثبوت ہمارے ہاتھ آئے تو اس سے ہمارے لیے چیزیں آسان ہوتی چلی گئیں۔بشریٰ بی بی کی جانب سے طلاق لے کر عمران خان سے شادی کرنے سے متعلق سینئر صحافی نے بتایا کہ جب اس حوالے سے ہماری خاور مانیکا سے بات ہوئی تو انہوں نے دوران گفتگو ایک جملہ کہا کہ بشریٰ بی بی بلا کی ذہین تھیں۔بشریٰ تسکین کے مطابق آپ اس سے خود اندازہ لگا لیں، ظاہر ہے وہ تو بشریٰ بی بی کو بہت سالوں سے جانتے تھے، جو چیز ہمارے لیے دھماکے دار اور حیران کن چیز تھی وہ یہ کہ جب یہ خبر آئی کہ عمران خان کو ایک پیر اور روحانی شخصیت مل گئی ہے اور وہ ایک خاتون ہیں، جب یہ خبر آئی کہ عمران خان نے اپنی پیرنی سے شادی کر لی ہے تو یہ چیز ہمارے لیے ایک ناقابل قبول فیکٹ کے طور پر سامنے آئی۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم نے بہت سی روحانی شخصیات سے بھی رابطہ کیا کہ روحانیت کس طرح کام کرتی ہے، جادو ٹونہ کس طرح سے ہوتا ہے تو اکثریت نے کہا کہ ہم لوگ جس طرح بھی ہیں لیکن ہمارا مریدین کے ساتھ تعلق بہت ہی محتاط ہوتا ہے لیکن یہاں پر تو پیر نے مرید سے شادی کر لی ہے تو ہم اس کو نہیں مانتے۔بشریٰ تسکین کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کے پاس ایسے ذرائع تھے جو انہیں معلومات فراہم کرتے تھے، اگر ان کے پاس روحانی طاقت ہوتی تو ان کا، عمران خان، پی ٹی آئی کا اور ان کی حکومت کا وہ حال نہ ہوتا جو اب ہوچکا ہے، انہوں نے عوامی طور پر اور سیاسی طور پر کوئی چیز حاصل نہیں کی، میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ حکومت پاکستان کے روز مرہ کے معاملات، تقرر و تبادلے، آنا جانا اور ملنا ملانا ہر چیز جادو اور علم کی بنیاد پر ہونے لگی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ آبادی والے ایک جوہری ملک کا سربراہ جو کہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ ان کی پارٹی سب سے زیادہ عوامی مقبول اور سب سے بڑی پارٹی ہے، وہ اپنی حکومت کے فیصلے جادو اور روحانیت کی بنیاد پر کررہے تھے، یہ چیزیں ہمارے لیے بہت ہی حیران کن تھیں۔
   

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ کہ عمران خان نے بتایا کہ ہمارے لیے انہوں نے کی بنیاد کیا تو

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق