محمد زبیر: حکومت نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزر چکا ہے، لیکن کسی حکومتی نمائندے نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے تین ماہ تک آئی ایم ایف کی رپورٹ کو کیوں چھپائے رکھا؟
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی شرط تھی کہ اگلی قسط ملنے سے پہلے رپورٹ جاری کی جائے گی، اور اب اس رپورٹ میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جس پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
محمد زبیر نے حکومتی نمائندوں سے کہا کہ وہ رپورٹ پر اپنا مؤقف واضح کریں۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی پر گھڑی کے حوالے سے جو مقدمہ بنایا گیا ہے وہ جعلی اور بے بنیاد ہے۔
سابق گورنر سندھ نے کہا کہ ملک کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس چکے ہیں اور ان کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔