بنگلادیش: سپریم کورٹ کا غیرجانبدار نگراں حکومت کا نظام بحال کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے غیرجانبدار نگران حکومت کے نظام کو بحال کر دیا ہے تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ نظام آئندہ سال ہونے والے قومی انتخابات پر نافذ نہیں ہوگا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 2011 میں دیے گئے اسی عدالت کے سابقہ فیصلے کے خلاف دائر دو اپیلوں اور چار ریویو پٹیشنز کی سماعت کے بعد کیا گیا، غیرجانبدار کیئر ٹیکر نظام 1996 میں متعارف کرایا گیا تھا، عوام اور بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک اسے انتخابات کی شفافیت کے لیے ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔
اس نظام کے تحت سابق چیف جسٹس غیرجانبدار حکومت تشکیل دیتے تھے، انتخابات 90 دن کے اندر منعقد ہوتے اور فاتح امیدوار کو اقتدار منتقل کیا جاتا، 2008 کے انتخابات میں یہ نظام ایک سابق مرکزی بینک کے گورنر کے تحت بھی استعمال ہوا۔
سیاسی تنازعات کے باعث 2011 میں اس نظام کو ختم کر دیا گیا تھا، جس کا اثر معزول سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے تحت ہونے والے 2014، 2018 اور 2024 کے انتخابات پر پڑا، جو وسیع پیمانے پر ناقابلِ اعتبار سمجھے گئے، اس دوران سابق وزیرِاعظم خالِدہ ضیا کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے 2014 اور 2024 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور کیئر ٹیکر حکومت کے نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل محمد اسدالزمان نے کہا کہ نگران حکومت کا نظام بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کے لیے معاون قرار دیا گیا ہے اور عدالت کے مکمل فیصلے میں اس کی وضاحت کی جائے گی، ہم سمجھتے ہیں بنگلہ دیش نے واقعی جمہوری راستے پر سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
خالِدہ ضیا کی پارٹی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نئے دور کے آغاز کا نشان ہے، پارٹی کے اہم رہنما امیر خصرو محمود چوہدری نے کہا کہ کیئر ٹیکر نظام کی بحالی ایک نئے افق کی طرف رہنمائی کرے گی۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2024 کو عوامی احتجاج کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور محمد یونس عبوری حکمران کے طور پر اقتدار سنبھال چکے ہیں، حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطن ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔