data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے غیرجانبدار نگران حکومت کے نظام کو بحال کر دیا ہے تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ نظام آئندہ سال ہونے والے قومی انتخابات پر نافذ نہیں ہوگا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 2011 میں دیے گئے اسی عدالت کے سابقہ فیصلے کے خلاف دائر دو اپیلوں اور چار ریویو پٹیشنز کی سماعت کے بعد کیا گیا، غیرجانبدار کیئر ٹیکر نظام 1996 میں متعارف کرایا گیا تھا، عوام اور بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک اسے انتخابات کی شفافیت کے لیے ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا گیا۔

اس نظام کے تحت سابق چیف جسٹس غیرجانبدار حکومت تشکیل دیتے تھے، انتخابات 90 دن کے اندر منعقد ہوتے اور فاتح امیدوار کو اقتدار منتقل کیا جاتا، 2008 کے انتخابات میں یہ نظام ایک سابق مرکزی بینک کے گورنر کے تحت بھی استعمال ہوا۔

سیاسی تنازعات کے باعث 2011 میں اس نظام کو ختم کر دیا گیا تھا، جس کا اثر معزول سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے تحت ہونے والے 2014، 2018 اور 2024 کے انتخابات پر پڑا، جو وسیع پیمانے پر ناقابلِ اعتبار سمجھے گئے، اس دوران سابق وزیرِاعظم خالِدہ ضیا کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے 2014 اور 2024 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور کیئر ٹیکر حکومت کے نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل محمد اسدالزمان نے کہا کہ نگران حکومت کا نظام بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کے لیے معاون قرار دیا گیا ہے اور عدالت کے مکمل فیصلے میں اس کی وضاحت کی جائے گی، ہم سمجھتے ہیں بنگلہ دیش نے واقعی جمہوری راستے پر سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

خالِدہ ضیا کی پارٹی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نئے دور کے آغاز کا نشان ہے، پارٹی کے اہم رہنما امیر خصرو محمود چوہدری نے کہا کہ کیئر ٹیکر نظام کی بحالی ایک نئے افق کی طرف رہنمائی کرے گی۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2024 کو عوامی احتجاج کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور محمد یونس عبوری حکمران کے طور پر اقتدار سنبھال چکے ہیں، حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطن ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ