WE News:
2026-07-24@00:55:12 GMT

بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے نگران حکومت کا نظام بحال کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے نگران حکومت کا نظام بحال کر دیا

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں نگران حکومت یعنی کیئرٹیکر گورنمنٹ کا نظام بحال کر دیا ہے۔

عدالت نے 14 سال پرانے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت غیرجانبدار نگران حکومت کا تصور متعارف کراتی 13ویں آئینی ترمیم ختم کر دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کو سزائے موت، بنگلہ دیش میں کہیں جشن، کہیں ہلچل

جمعرات کو چیف جسٹس سید رفاعت احمد کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے اس ترمیم کو بحال کرتے ہوئے  2011 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں و ریویو پٹیشنز کو منظور کر لیا۔

#BreakingNews – #Bangladesh SC reinstates #caretakergovernment system https://t.

co/KPf83mSiji

— The Daily Star (@dailystarnews) November 20, 2025

عدالت نے قرار دیا کہ نگران حکومت سے متعلق دفعات ’دوبارہ فعال‘ ہو گئی ہیں، تاہم یہ نظام صرف مستقبل میں نافذ ہوگا، فوری طور پر نہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکلز 58B اور 58C جو پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے 15 دن کے اندر نگران حکومت کی تشکیل کا طریقہ بتاتے ہیں، اب دوبارہ قابلِ عمل ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق چونکہ اس وقت ملک میں پارلیمنٹ موجود نہیں، اس لیے عدالت کے مطابق نگران نظام کا اطلاق آئندہ حالات و مواقع کے مطابق ہوگا۔

پس منظر

نگران حکومت کا نظام 1990 کی دہائی میں 13ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا، جس کے تحت 1996، 2001 اور 2008 کے عام انتخابات غیرجانبدار افراد پر مشتمل نگران حکومتوں کے تحت منعقد ہوئے۔

پہلا نگران سیٹ اپ 1991 میں سیاسی اتفاقِ رائے سے قائم ہوا تھا، جس کے سربراہ اُس وقت کے چیف جسٹس شہاب الدین احمد تھے۔

1999 میں ایم سلیم اللہ سمیت چند افراد نے اس ترمیم کو چیلنج کیا، تاہم 2004 میں ہائیکورٹ نے اسے درست قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے گا یا نہیں؟ دہلی کا ردعمل آگیا

جس کے بعد درخواست گزاروں نے اپیل دائر کی جس کے نتیجے میں 2011 میں چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے 4-3 کی تقسیم شدہ رائے سے 13ویں ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا۔

مذکورہ فیصلے بعد ازاں حکمراں جماعت عوامی لیگ نے 15ویں ترمیم کے ذریعے نگران نظام ختم کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کا تازہ مؤقف

سینیئر وکیل محمد ششیر منیر کے مطابق، عدالت نے 2011 کے فیصلے میں متعدد قانونی خامیاں تلاش کیں، جس کے بعد اُس فیصلے کی اکثریتی اور اقلیتی دونوں آرا کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

13ویں ترمیم کے بحال ہونے سے بنگلہ دیش کے آئین میں ایک بار پھر نگران حکومت کا باقاعدہ نظام شامل ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: حسینہ واجد کی سزا پر عالمی ماہر کا تبصرہ، بنگلہ دیش میں سیاسی اثرات کا امکان

یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس کے مستقبل کے انتخابات پر نمایاں سیاسی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ملک میں انتخابی شفافیت، سیاسی تناؤ اور جمہوری عمل سے متعلق بحثیں جاری ہیں۔

خطے بالخصوص پاکستان میں بھی اس پیش رفت کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کے انتخابی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں خطے کے سیاسی تناظر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

13ویں ترمیم بنگلہ دیش چیف جسٹس سپریم کورٹ عوامی لیگ غیرجانبدار کالعدم نگران حکومت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 13ویں ترمیم بنگلہ دیش چیف جسٹس سپریم کورٹ عوامی لیگ کالعدم نگران حکومت نگران حکومت کا سپریم کورٹ 13ویں ترمیم بنگلہ دیش چیف جسٹس کے مطابق کورٹ نے کر دیا

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع