بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے نگران حکومت کا نظام بحال کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں نگران حکومت یعنی کیئرٹیکر گورنمنٹ کا نظام بحال کر دیا ہے۔
عدالت نے 14 سال پرانے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت غیرجانبدار نگران حکومت کا تصور متعارف کراتی 13ویں آئینی ترمیم ختم کر دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کو سزائے موت، بنگلہ دیش میں کہیں جشن، کہیں ہلچل
جمعرات کو چیف جسٹس سید رفاعت احمد کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے اس ترمیم کو بحال کرتے ہوئے 2011 کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں و ریویو پٹیشنز کو منظور کر لیا۔
#BreakingNews – #Bangladesh SC reinstates #caretakergovernment system https://t.
— The Daily Star (@dailystarnews) November 20, 2025
عدالت نے قرار دیا کہ نگران حکومت سے متعلق دفعات ’دوبارہ فعال‘ ہو گئی ہیں، تاہم یہ نظام صرف مستقبل میں نافذ ہوگا، فوری طور پر نہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکلز 58B اور 58C جو پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے 15 دن کے اندر نگران حکومت کی تشکیل کا طریقہ بتاتے ہیں، اب دوبارہ قابلِ عمل ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق چونکہ اس وقت ملک میں پارلیمنٹ موجود نہیں، اس لیے عدالت کے مطابق نگران نظام کا اطلاق آئندہ حالات و مواقع کے مطابق ہوگا۔
پس منظرنگران حکومت کا نظام 1990 کی دہائی میں 13ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا، جس کے تحت 1996، 2001 اور 2008 کے عام انتخابات غیرجانبدار افراد پر مشتمل نگران حکومتوں کے تحت منعقد ہوئے۔
پہلا نگران سیٹ اپ 1991 میں سیاسی اتفاقِ رائے سے قائم ہوا تھا، جس کے سربراہ اُس وقت کے چیف جسٹس شہاب الدین احمد تھے۔
1999 میں ایم سلیم اللہ سمیت چند افراد نے اس ترمیم کو چیلنج کیا، تاہم 2004 میں ہائیکورٹ نے اسے درست قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں: بھارت حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے گا یا نہیں؟ دہلی کا ردعمل آگیا
جس کے بعد درخواست گزاروں نے اپیل دائر کی جس کے نتیجے میں 2011 میں چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے 4-3 کی تقسیم شدہ رائے سے 13ویں ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا۔
مذکورہ فیصلے بعد ازاں حکمراں جماعت عوامی لیگ نے 15ویں ترمیم کے ذریعے نگران نظام ختم کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کا تازہ مؤقفسینیئر وکیل محمد ششیر منیر کے مطابق، عدالت نے 2011 کے فیصلے میں متعدد قانونی خامیاں تلاش کیں، جس کے بعد اُس فیصلے کی اکثریتی اور اقلیتی دونوں آرا کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
13ویں ترمیم کے بحال ہونے سے بنگلہ دیش کے آئین میں ایک بار پھر نگران حکومت کا باقاعدہ نظام شامل ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: حسینہ واجد کی سزا پر عالمی ماہر کا تبصرہ، بنگلہ دیش میں سیاسی اثرات کا امکان
یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس کے مستقبل کے انتخابات پر نمایاں سیاسی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب ملک میں انتخابی شفافیت، سیاسی تناؤ اور جمہوری عمل سے متعلق بحثیں جاری ہیں۔
خطے بالخصوص پاکستان میں بھی اس پیش رفت کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کے انتخابی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں خطے کے سیاسی تناظر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
13ویں ترمیم بنگلہ دیش چیف جسٹس سپریم کورٹ عوامی لیگ غیرجانبدار کالعدم نگران حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 13ویں ترمیم بنگلہ دیش چیف جسٹس سپریم کورٹ عوامی لیگ کالعدم نگران حکومت نگران حکومت کا سپریم کورٹ 13ویں ترمیم بنگلہ دیش چیف جسٹس کے مطابق کورٹ نے کر دیا
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔