وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو تبدیل کرنیکا فیصلہ کر لیا ہے، دوستین ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں مسلم لیگ نون کے رہنماء دوستین ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء سینیٹر دوستین ڈومکی کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں دوستین ڈومکی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان میں اتحادی حکومت ہی ہوگی، تاہم سرفراز بگٹی کو بطور وزیراعلیٰ قبول نہیں کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ بلوچستان کا نیا وزیراعلیٰ بھی پیپلز پارٹی کے اندر سے ہی لایا جائے گا، جس کے لئے مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔ متعدد پاکستانی چینلز نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دو پارلیمانی اراکین بھی سرفراز بگٹی کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے اڑھائی سال معائدے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم پیپلز پارٹی نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور بلوچستان عوامی پارٹی کی مشترکہ حکومت قائم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے سرفراز بگٹی کو بلوچستان میں دوستین ڈومکی کہ بلوچستان مسلم لیگ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔