48 گھنٹے گزر گئے کسی حکومتی نمائندے نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی، زبیر عمر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد:
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما زبیر عمر نے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیا کسی حکومتی نمائندے نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی۔
یہ بات رہنماؤں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ زبیر عمر نے کہا کہ ہم آج آئی ایم ایف رپورٹ پر گفتگو کریں گے، جب سے رپورٹ جاری ہوئی ایک نیا طوفان سامنے آگیا ہے، یہ حکومت دھاندلی شدہ مینڈیٹ لے کر آئی ہے، میڈیا کی آزادی ختم ہوگئی ہے، الیکشن کمیشن کو ختم کردیا ہے، وزیراعظم کہتے تھے کوئی ایک کیس بتا دیں ہمارے خلاف اور اب گندم چینی کے اسکینڈل سامنے آئے ہیں، پانچ ہزار تین سو ارب کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہے، ہمیں علم نہیں تھا کہ ملک کو کیسے کیسے لوٹا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے ڈھائی سال پہلے کہا بلین ڈالر انویسٹمنٹ آئے گی، وہ بات بھی غلط ثابت ہوئی کوئی انویسٹمنٹ نہیں آئی، اڑتالیس گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیا کوئی حکومتی نمائندے نے اس رپورٹ کی تردید نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ کیا وجوہات تھیں کہ حکومت تین ماہ تک رپورٹ دبا کر بیٹھی رہی، آئی ایم کی شرط تھی کہ رپورٹ جاری ہوگی تو اگلی قسط ملے گی، ہم اس رپورٹ میں بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
زبیر عمر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پر بنایا گیا مقدمہ جعلی اور بے بنیاد ہے، بانی پی ٹی آئی پر گھڑی کا بے بنیاد کیس بنایا ہوا ہے، پاکستان کی عوام مہنگائی کی چکی میں پس گئی، حکومتی نمائندے اس رپورٹ پر اپنا موقف سامنے رکھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حکومتی نمائندے نے کہا کہ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔