اسلام آباد:

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما زبیر عمر نے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیا کسی حکومتی نمائندے نے آئی ایم ایف رپورٹ کی تردید نہیں کی۔

یہ بات رہنماؤں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ زبیر عمر نے کہا کہ ہم آج آئی ایم ایف رپورٹ پر گفتگو کریں گے، جب سے رپورٹ جاری ہوئی ایک نیا طوفان سامنے آگیا ہے، یہ حکومت دھاندلی شدہ مینڈیٹ لے کر آئی ہے، میڈیا کی آزادی ختم ہوگئی ہے، الیکشن کمیشن کو ختم کردیا ہے، وزیراعظم کہتے تھے کوئی ایک کیس بتا دیں ہمارے خلاف اور اب گندم چینی کے اسکینڈل سامنے آئے ہیں، پانچ ہزار تین سو ارب کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہے، ہمیں علم نہیں تھا کہ ملک کو کیسے کیسے لوٹا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے ڈھائی سال پہلے کہا بلین ڈالر انویسٹمنٹ آئے گی، وہ بات بھی غلط ثابت ہوئی کوئی انویسٹمنٹ نہیں آئی، اڑتالیس گھنٹوں سے زائد وقت گزر گیا کوئی حکومتی نمائندے نے اس رپورٹ کی تردید نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کیا وجوہات تھیں کہ حکومت تین ماہ تک رپورٹ دبا کر بیٹھی رہی، آئی ایم کی شرط تھی کہ رپورٹ جاری ہوگی تو اگلی قسط ملے گی، ہم اس رپورٹ میں بے ضابطگیوں پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

زبیر عمر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پر بنایا گیا مقدمہ جعلی اور بے بنیاد ہے، بانی پی ٹی آئی پر گھڑی کا بے بنیاد کیس بنایا ہوا ہے، پاکستان کی عوام مہنگائی کی چکی میں پس گئی، حکومتی نمائندے اس رپورٹ پر اپنا موقف سامنے رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکومتی نمائندے نے کہا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے