City 42:
2026-06-03@03:16:47 GMT

عوام کو مفت وائی فائی ملے گا، فعال کرنے کی تاریخ سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

ویب ڈیسک:اسلام آباد میں عوامی انٹرنیٹ تک رسائی بہتر بنانے کے لیے حکومت نے دسمبر 2025 تک 30 مفت وائی فائی ہاٹ اسپٹس فعال کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

قومی ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NTC) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور مقررہ مدت میں ہاٹ اسپٹس فعال کر دیئے جائیں گے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام حکومتی پالیسی کے تحت ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخواہ کی ملاقات

منصوبے کے تحت وفاقی دارالحکومت کے اہم مقامات، مرکزی مارکیٹس، عوامی مقامات اور سرکاری عمارتوں میں ہاٹ اسپٹس نصب کیے جائیں گے تاکہ شہریوں، طلبہ اورملازمین کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ تک آسان رسائی مل سکے۔

این ٹی سی نے مزید بتایا کہ وہ اس وقت ملک کے 100 سے زائد شہروں میں 3 ہزار سے زیادہ سرکاری و نجی اداروں کو انٹرنیٹ، کمیونیکیشن اورسائبرسکیورٹی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق اسلام آباد میں مفت وائی فائی منصوبہ شہر کو ٹیکنالوجی فرینڈلی بنانے اور ڈیجیٹل خدمات کی وسعت بڑھانے کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا۔

لاہور میں 256ٹریفک حادثات؛ ایک شخص جاں بحق 285 زخمی 

اس سے قبل اجلاس میں بریفنگ دی گئی تھی کہ سی ڈی اے کی ٹیکنیکل ٹیم منصوبے کی تکمیل میں این ٹی سی کی مکمل معاونت کرے گی جبکہ سسٹم کا آپریشن اورمینٹیننس این ٹی سی کے سپرد ہو گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا مکمل ’’فری وائی فائی سٹی‘‘ بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: وائی فائی

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے