Jasarat News:
2026-07-24@03:25:00 GMT

دہلی دھماکاکیس:مسلمانوں پرزمین تنگ،پیش امام گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فرید آباد :مودی حکومت کی مسلم دشمنی کے تسلسل میں بھارتی سیکورٹی فورسز نے دہلی دھماکے کے آڑ میں مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے،تازہ واقعے میں ایک پیش امام و دیگر کو گرفتار کرلیا۔

 ہریانہ پولیس نے دہلی لال قلعہ دھماکے کی جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر تلاشی مہم تیز کردی ہے۔ کرائم برانچ اور مقامی پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے ہفتہ کو دھوج گائوں میں مساجد، دکانوں، ہوٹلوں، گھروں اور گوداموں کا معائنہ کیا، جس سے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

 پولیس نے بتایا کہ کئی گائوں والوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، جن میں سروہی مسجد کے امام، امام الدین بھی شامل ہیں۔

 پولیس کے مطابق امام سے پہلے بھی دو بار پوچھ گچھ کی جا چکی ہے، کیونکہ دو مشتبہ دہشت گرد ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر مزمل اکثر مسجد میں آتے جاتے تھے۔

حکام نے بتایا کہ تازہ ترین کارروائی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلے اسی گائوں میں تلاشی لینے کے بعد کی ہے اور ایک گھر سے یوریا پیسنے والی مل اور امونیم نائٹریٹ کو صاف کرنے اور الگ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک الیکٹرانک مشین برآمد کی ہے۔

 پولس نے کہا کہ پلہ، سرائے خواجہ، بلبھ گڑھ اور سورج کنڈ علاقوں تک چھاپوں کا دائرہ وسیع کرنے کے بعد مزید نوجوانوں کو دہلی دھماکا کیس سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دہلی دھماکوں کا تعلق ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی سے تھا، جس کے بعد حکام نے اس کیس کے سلسلے میں ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر شاہین، لیب ٹیکنیشن باسط اور وارڈ بوائے شعیب کو گرفتار کیا تھا۔

قبل ازیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے الفلاح ٹرسٹ کے چیئرمین جاوید احمد صدیقی کو گرفتار کیا تھا اور عدالت نے انہیں 13 دن کے لیے ای ڈی کی تحویل میں دے دیا تھا۔ انہیں 18 نومبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار