آئی ایم ایف رپورٹ ملکی معاشی نظام کو درپیش حقیقی مسائل کواجاگر کرتی ہے ،عاطف اکرام شیح
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
آئی ایم ایف رپورٹ ملکی معاشی نظام کو درپیش حقیقی مسائل کواجاگر کرتی ہے ،عاطف اکرام شیح WhatsAppFacebookTwitter 0 22 November, 2025 سب نیوز
گورننس اور بدعنوانی کے خدشات پاکستان کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کیلئے بڑے رکاوٹ ہیں،صدر ایف پی سی سی آئی
نجکاری کے ذریعے نقصان کے حامل اداروں کی شفاف فروخت حکومتی نقصانات کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے، بیان
اسلام آباد :صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کے حکومتی اور انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے آئی ایم ایف رپورٹ تشویش ناک ہے، رپورٹ نے ملکی معاشی ترقی میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی جنہیں فوری دور کرنیکی ضرورت ہے۔
اپنے ایک بیان میں صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مندرجات پاکستان کے معاشی نظام اور اس کو درپیش حقیقی مسائل کواجاگر کرتے ہیں،فیڈریشن بھی مختلف مواقع پر مالیاتی مسائل اور شفافیت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کر تی رہی ہے ، حکومتی دھانچے کو منظم،جدید اور بہتر کارکردگی کا حامل بنانے کیلئے ایمرجنسی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔
عاطف اکرام شیح نے کہا کہ سرکاری اداروں میں بد انتظامی اور ایک ہی کام کیلئے متعدد ادارے ترقی کی شرح کم کرنے کا سبب ہیں ، گورننس اور بدعنوانی کے خدشات پاکستان کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کیلئے بڑے رکاوٹ ہیں، نجکاری کے ذریعے نقصان کے حامل اداروں کی شفاف فروخت حکومتی نقصانات کی کمی میں معاون ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شفافیت اور گورننس میں سنجیدہ اصلاحات سے جی ڈی پی میں 5سے 6 فیصد اضافہ ممکن ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ سے پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری متاثرہونے کا خدشہ ہے ، حکومت نے مستقل اور ٹھوس اصلاحات نہ کیں تو پاکستان کی معاشی خود مختاری پر منفی اثر پڑے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایبٹ آباد: مسافر وین کھائی میں گرنے سے باپ بیٹے سمیت 5 افراد جاں بحق سونا پھر مہنگا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت بڑھ گئی پنجاب کی تمام شوگر ملز میں کرشنگ کا آغاز، چینی کی قیمتوں میں 10روپے تک کمی متوقع صوبوں میں وسائل کی تقسیم، فارمولا طے کرنے کیلئے قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس 4دسمبر کو طلب چین کی ویزا فری پالیسی کے فوائد: نہ صرف آمد و رفت، بلکہ تہذیبوں کا ایک سنگم سونے کی قیمت میں آج ہزاروں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ ایف پی سی سی آئی اور سمیڈا کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ویمن انٹرپنیورشپ ڈے کی تقریب کا انعقادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف رپورٹ عاطف اکرام
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔