لاہور‘اسلام آباد‘ فیصل آباد (نمائندہ خصوصی+ خبر نگار+نیوز رپورٹر+نامہ نگار) فیصل آباد کے علاقے ملک پور کی کیمیکل فیکٹری میں گیس لیکج سے ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے سے چار فیکٹریاں اور 9 گھر تباہ ہوگئے۔ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 7افراد سمیت 20افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے سات کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کئی کلومیٹر تک آواز سنائی دی اور ارد گرد کی آبادیوں میں کئی گھروں کی چھتوں اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔ ریسکیو حکام اور پولیس کے مطابق دھماکہ جمعہ کی صبح ساڑھے پانچ کے لگ بھگ اس وقت ہوا جب ملک پور کی بونڈ بنانے والی فیکٹری میں کیمیکل کا کنٹینر موجود تھا اور مزدور وہاں کام کررہے تھے۔ ابتدائی طور پر یہی بتایا گیا کہ بوائلر پھٹنے سے دھماکہ ہوا ہے۔ لیکن بعد ازاں ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ نے مؤقف دیا کہ گیس لیکج سے سلنڈر پھٹا جس سے کیمیکل کو آگ لگ گئی۔ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔ دھماکے سے بونڈ بنانے والی فیکٹری مکمل طور پر زمیں بوس ہو گئی جبکہ اس سے ملحقہ سلیکون فیکٹری، ایمبرائیڈری فیکٹری اور گلیو بنانے والی فیکٹری کی چھت بھی گر گئی۔ دھماکے اور آگ سے قریبی موجود 9 گھروں کی چھتیں بھی گر گئیں۔ دھماکے میں مجموعی طور پر 20 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہوئے۔ سات انتہائی شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں فاخرہ‘ جنت‘ مقدس‘  مقصودہ بی بی‘ فاطمہ اور فرح بھی شامل ہیں۔ دھماکے میں علی‘ عرفان‘ ریحان‘ عبید‘ شفیق‘ احمد‘ اذان‘ عاشق ‘ بلال‘ عمر‘ صائم علی‘ وقاص‘ فضل اور ایک 22 سالہ نامعلوم شہری شامل ہیں۔ عمارتیں گرنے سے زخمی ہونے والوں کو ریسکیو نے موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی جبکہ جھلسنے اور شدید زخمی ہونے والے سات افراد رفعت، یونس،  معظم، لیاقت، احسن، ندیم اور 15 سالہ اشرف کو تشویش ناک حالت میں الائیڈ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے فیکٹری مالک قیصر چغتائی سمیت پانچ افراد کیخلاف دہشتگردی، قتل، اقدام قتل و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ رات گئے تک فیکٹریوں کا ملبہ ہٹانے کیلئے کام جاری تھا اور ملبے تلے مزید کسی کے دبے ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف‘بلاول بھٹوزرداری‘سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق  اور خواجہ سلمان رفیق  نے فیصل آبادکیمیکل فیکٹری میں بوائلر دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا  اور سوگوار خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کمشنر فیصل آباد سے فیکٹری دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ اس سانحہ کی مکمل انکوائری کرنے کی ہدایت کی ہے۔کمشنر فیصل آباد نے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ، لیبر حکام، الیکٹرک انسپکٹر، انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ، شہری دفاع حکام اور دیگر متعلقین سے فیکٹری کے این او سی، حفاظتی انتظامات اور دیگر معاملات کے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔ فیکٹری مالک محمد قیصر نے گرفتاری دیدی‘ پنجاب پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ فیصل آباد کے علاقہ تھانہ منصور آباد میں کیمیکل فیکٹری میں بوائلر دھماکے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر سینئر پولیس افسران اور بھاری نفری جائے حادثہ پر فوراً پہنچ گئی۔پولیس فورس نے امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد