ملتان، پی ٹی آئی رہنمائوں کا ملتان کچہری میں احتجاج، پولیس کی بھاری نفری تعینات
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
احتجاج میں صدر جنوبی پنجاب سینٹر عون عباس بپی، ضلعی صدر ملتان چوہدری خالد جاوید وڑائچ، ملک عامر ڈوگر، انصاف لائرز فورم کے عہدیدران بلال شہباز، ملک عثمان ڈوگر، مخدوم عامر عباس، زاہد بہار ہاشمی، راو آصف انور، مظفر جمیل، عزیز خان و دیگر موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر ملتان میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یوم سیاہ منایا گیا، پارٹی رہنمائوں کے گھروں پر پولیس کے گھیرائو کے باعث پی ٹی آئی کچہری پہنچے جہاں اُنہوں نے احتجاج کیا۔ احتجاج میں صدر جنوبی پنجاب سینٹر عون عباس بپی، ضلعی صدر ملتان چوہدری خالد جاوید وڑائچ، ملک عامر ڈوگر، انصاف لائرز فورم کے عہدیدران بلال شہباز، ملک عثمان ڈوگر، مخدوم عامر عباس، زاہد بہار ہاشمی، راو آصف انور، مظفر جمیل، عزیز خان و دیگر موجود تھے۔ رہنمائوں نے اعلی قیادت کے حکم پر ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف ملتان کچہری میں سیاہ پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ منایا، اپنے قائد عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی اس موقع پر وکلا اور آئی ایس ایف کے عہدیدران نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں