شہید طہرانی مقدم کی تربیت یافتہ نسل اسرائیل کی آنکھ کا کانٹا ہے اور ہمیشہ رہے گی، مقدم فر
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
مشہد میں شہید طہرانی مقدم کی برسی کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے سپاہ پاسداران کے کمانڈر ان چیف کے مشیر نے کہا کہ ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کے بانی کامل طور پر ولایت مدار اور رہبر انقلاب اسلامی کے عاشق تھے، سچے زاہد تھے، اور اپنے خاندان اور سماج میں محبت و شفقت سے بھرپور انسان تھے، ان کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات پوری طرح عملی صورت اختیار کریں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے دانشور اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف کے مشیر مقدم فر نے کہا ہے کہ اگرچہ شہید طہرانیمقدم ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن اپنی کامیاب روش کے ذریعے انہوں نے ایسے سیکڑوں افراد تیار کیے ہیں جو آج اسلامی جمہوریہ ایران کی خدمت میں مصروف ہیں، وہ نسل جسے انہوں نے تربیت دی، آج اسرائیل کی آنکھ کا کانٹا ہے، اور ہمیشہ رہے گی۔
تسنیم نیوز کے مطابق حمید رضا مقدم فر نے مشہد مقدس میں شہید طہرانی مقدم کی شہادت کی چودہویں برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید کی تکریم دراصل ایک پورے نظامِ اقدار کی تکریم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کا ایک بڑا حصہ ان مجاہدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے جو شہید طہرانی مقدم اور ان جیسے دیگر افراد نے انجام دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کوششیں نہ ہوتیں تو ملک کی بہت سی بڑی اور تاریخی کامیابیاں، جن میں حالیہ صہیونی رجیم، امریکہ اور دراصل پورے نیٹو نظام پر حاصل ہونے والی برتری بھی شامل ہے، اس عظمت کے ساتھ ممکن نہ ہوتیں۔ انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی اس تعبیر کا حوالہ دیا کہ شہید طہرانی مقدم ایک "دانشمند برجستہ" (نمایاں سائنس دان) تھے۔ مقدم فر کے مطابق شہید نہایت بامقصد محقق تھے، جن کی علمی کاوشیں عام سطحی تحقیقات اور روایتی تعلیمی مقاصد سے بہت بلند تھیں۔
انہون نے کہا کہ وہ ڈگری یا کریڈٹ کے لیے تحقیق نہیں کرتے تھے، بلکہ ہمیشہ یہ پوچھتے کہ "ملک کی ضرورت کیا ہے؟" اور "اس کا حل کیا ہے؟" انہی خالص اور صبورانہ کوششوں نے انہیں اس مقام تک پہنچایا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انہیں نمایاں سائنسدان قرار دیا۔ سپاه پاسدان انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف کے مشیر نے ایران کی میزائل کامیابیوں کا بڑا حصہ شہید طہرانی مقدم کے میجیریل طریقہ کار کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم انقلاب نے انہیں "مدیر برجستہ" (نمایاں و ممتاز مدیر) کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی میجیریل انداز اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا کی ممتاز میزائل طاقتوں میں شامل کرنے اور حیرت انگیز ٹیکنالوجیوں تک رسائی کا سبب بنا۔ مقدم فر نے اس میجمنٹ کے ماڈل کے تجزیے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ میجمنٹ کا یہ ماڈل تحقیق، تدوین اور جامعات میں تدریس کے قابل ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کس طرح محض دو دہائیوں سے کم عرصے میں اتنی عظیم پیشرفت ممکن ہوئی؟
انہوں نے بتایا کہ شہید طہرانی مقدم اپنے ماہر انجینئرز اور ٹیم کے ساتھ ایسا تعلق رکھتے تھے کہ لوگ دل سے ان کی پیروی کرتے تھے، ان کے ساتھی محسوس کرتے تھے کہ وہ ایک ادارے میں نہیں، ایک خاندان میں کام کر رہے ہیں، یہی اعتماد اور یکجہتی ان کے منفرد مدیریتی انداز کا نتیجہ تھا، اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے تربیت کردہ افراد ایک پاکیزہ شجرہ، تمام تر دشمنی، دہشت گردی اور صہیونی امریکی رکاوٹوں کے باوجود دن بدن زیادہ باثمر ہو رہا ہے۔
مقدم فر نے مزید کہا کہ شہید طہرانی مقدم اپنی عسکری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ معنوی اور عارفانہ سلوک رکھتے تھے، خیراتی امور کا اہتمام کرتے تھے اور انہوں نے یتیموں کے لیے خیراتی ادارہ بھی قائم کیا، اپنی مصروف زندگی کے باوجود وہ کامیاب کوہ نورد اور اچھے فٹبالر بھی تھے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر یکساں توجہ دیتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہید کی خصوصیات میں مسجد سے گہرا تعلق، معرفت و بصیرت، دشمن شناسی، سیاسی بصیرت، خوش اخلاقی، وسیع القلبی، صبر اور بردباری شامل تھے۔
مقدم فر نے کہا کہ شہید طہرانی مقدم اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولوں اور اہداف کے بڑے غیور اور وفادار محافظ تھے، ان کی شجاعت، ایثار اور فداکاری بے نظیر تھی، وہ کامل طور پر ولایت مدار اور رہبر انقلاب اسلامی کے عاشق تھے، سچے زاہد تھے، اور اپنے خاندان اور سماج میں محبت و شفقت سے بھرپور انسان تھے، ان کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات پوری طرح عملی صورت اختیار کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب شہید نے میزائل ٹیکنالوجی کے راستے کا آغاز کیا تو بہت سے لوگ اسے ناممکن سمجھتے تھے، لیکن وہ نہ صرف دو ہزار کلومیٹر مار کے میزائل بنانے میں کامیاب ہوئے بلکہ ملک کے میزائل نظام کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی، اگرچہ شہید طہرانی مقدم جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن اپنے مدیریتی اسلوب سے انہوں نے سیکڑوں ایسے لوگ تیار کیے جو آج بھی اسلامی جمہوریہ کی خدمت کر رہے ہیں اور وہ نسل جو انہوں نے تربیت کی اسرائیل کی آنکھ کا کانٹا ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہبر معظم انقلاب اسلامی اسلامی جمہوریہ ایران کہ رہبر معظم انقلاب انقلاب اسلامی کے کہ شہید طہرانی نے کہا کہ انہوں نے کرتے تھے کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔