اسرائیلی جارحیت جاری، مغربی کنارے میں 2 فلسطینی بچے شہید، اجتماعی قبر سے 51 لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
مقبوضہ بیت المقدس: غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور فلسطینیوں پر مظالم کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
تازہ واقعات میں قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے ایک رہائشی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 2 نہتے فلسطینی بچوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجی دستے صبح سویرے علاقے میں داخل ہوئے، گھر گھر تلاشی لی گئی اور اس دوران خوف و ہراس پھیلانے کے لیے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
فلسطینی خاندانوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج دانستہ طور پر بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ خوف پھیلایا جا سکے اور عوامی مزاحمت کو کمزور کیا جائے۔
اُدھر غزہ میں بھی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری رکنے کا نام نہیں لے رہی اور آج ایک بار پھر غزہ سٹی، بیت لاہیا اور خان یونس میں فضائی حملے کیے گئے جب کہ توپ خانے سے بھی گولہ باری کی گئی۔ قابض فوج کے حملوں سے مکانات کھنڈر بن گئے۔ریسکیو ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے زندہ افراد نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بے مثال تباہی ہو چکی ہے اور آج بھی ایک بڑی اجتماعی قبر سے 51 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
انسانی حقوق تنظیموں نے اس کو اسرائیلی جنگی جرائم کی ایک اور کھلی مثال قرار دیا ہے۔ اُدھر خان یونس سے ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش بھی ملی ہے، جسے آج اسرائیل کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی سول ڈیفنس کے ترجمان نے بتایا کہ درجنوں خاندانوں کی لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، تاہم محدود مشینری اور شدید تباہی کے باعث ریسکیو کارروائیاں انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔