تسنیم نیوز کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران سے متعلق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی رپورٹ پر منعقد ہونیوالے اجلاس میں گفتگو کی۔  اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے زور دے کر کہا کہ فوجی تجاوز اور اقتصادی دہشت گردی ایران کو کبھی بھی اس کے جائز حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ تسنیم نیوز کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران سے متعلق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی رپورٹ پر منعقد ہونیوالے اجلاس میں گفتگو کی۔ 

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران 1970 سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا ایک ذمہ دار اور پابند رکن ہے، تاہم تین یورپی ممالک اور امریکہ، صہیونی رجیم کے من گھڑت دعووں کو دہراتے ہوئے ایران کی پُرامن ایٹمی سرگرمیوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

امیر سعید ایروانی کی تقریر کا مکمل متن:
بسم الله الرحمن الرحیم
جنابِ صدر،
میں ڈائریکٹر جنرل کا رپورٹ پیش کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، لیکن ایسی تمام رپورٹس ہمیشہ پیشہ ورانہ، حقیقت پر مبنی اور سیاسی اثرات سے پاک رہنے چاہئیں، کیونکہ ایجنسی کی ساکھ اس کی غیر جانب داری پر مکمل طور پر منحصر ہے۔ ایٹمی توانائی ترقی اور توانائی کی سلامتی کے لیے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، ایک بنیادی اور ناقابلِ متبادل ضرورت ہے۔ سالم ایٹمی ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی، جو این پی ٹی کی شق 4 اور عالمی ایجنسی کے آئین کے مطابق ضمانت شدہ ہے، ایک اصل حق ہے، کوئی عطیہ یا رعایت نہیں۔ پروٹوکول اور نگرانی کا نظام پُرامن ایٹمی سرگرمیوں میں سہولت کار ہونا چاہیے، نہ کہ رکاوٹ۔

ایٹمی پھیلاؤ کے بہانے ترقی پذیر ممالک کے حقوق سلب کرنا این پی ٹی کی روح اور متن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انتہائی تشویش کا مقام ہے کہ کچھ ممالک ترقی پذیر ممالک کی پُرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی کو منظم انداز سے محدود کرتے ہیں، جبکہ اسی وقت صہیونی  رجیم، جو این پی ٹی کا رکن بھی نہیں، اور جس کے پاس وسیع پوشیدہ جوہری ہتھیار ہیں، اس کو اسلحہ اور عسکری مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار اور یک طرفہ غیرقانونی اقدامات، عدم پھیلاؤ کے نظام اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے تعاون مشن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

2025 کا صہیونی حملہ:
جنابِ صدر،
دنیا نے جون 2025 میں ایک نہایت مجرمانہ اور تجاوزکارانہ اقدام دیکھا۔ صہیونی رجیم نے، ایٹمی توانائی ایجنسی کے گورنرز بورڈ میں سیاسی محرکات کے تحت منظور کی گئی ایک قرارداد کے صرف چند گھنٹے بعد، ایران کی نگرانی کے نظام کے تحت موجود، ایجنسی کی مکمل نگرانی میں ایٹمی تنصیبات پر شدید اور وسیع حملے شروع کر دیے۔ ان حملوں نے ایرانی سائنسدانوں اور ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنایا، ہزاروں افراد کو شہید یا زخمی کیا، اور بے پناہ تباہی پھیلائی۔ امریکہ، جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور این پی ٹی کا ضامن ہے، 22 جون کو اس حملے میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے براہِ راست عالمی ایجنسی کی نگرانی میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنایا، یہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، عالمی ایٹمی ایجنسی کے آئین، اور سلامتی کونسل کی قرارداد 487 (1981) کی صریح خلاف ورزی ہے، جو پُرامن ایٹمی تنصیبات پر کسی بھی قسم کے حملے کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ یہ حملہ صرف ایک رکن ملک پر حملہ نہیں تھا، بلکہ اقوام متحدہ کی اتھارٹی، عالمی ایٹمی ایجنسی کی ساکھ، اور پروٹوکول نظام کی بنیادوں پر حملہ تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ ایجنسی، نہ سلامتی کونسل، اور نہ ہی خود ڈائریکٹر جنرل نے اس غیرقانونی حملے کی مذمت کی۔ حتیٰ کہ جنرل اسمبلی کے صدر اور ڈائریکٹر جنرل نے بھی آج کی نشست سے قبل اپنے بیانات میں اس جارحیت کے خلاف ایک لفظ تک نہ کہا۔

ایران کی قانونی پابندی اور مغرب کا پروپیگنڈا:
اسلامی جمہوریہ ایران 1970 سے این پی ٹی کا ذمہ دار رکن ہے۔ اس کے باوجود تین یورپی ممالک اور امریکہ صہیونی رجیم کے جھوٹے دعووں کا سہارا لے کر ایران کی پُرامن جوہری سرگرمیوں کو بدنام کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہی صہیونی رجیم خطے میں واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے، اور مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ ایران، دہشت گردانہ حملوں، تخریب کاری، سائنسدانوں کے قتل، غیرقانونی پابندیوں، اور اب پُرامن تنصیبات پر براہِ راست حملوں کے باوجود، کبھی بھی نہ برجام کی خلاف ورزی کی، نہ این پی ٹی کی، اور نہ پروٹوکول ذمہ داریوں کی۔ ایران ہمیشہ سفارت کاری پر قائم رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کی تازہ رپورٹس بھی تصدیق کرتی ہیں کہ بازرسیوں کی معطلی، انہی مسلح حملوں کا براہِ راست نتیجہ ہے، اس کی ذمہ داری حملہ آوروں پر ہے، نہ کہ ہمارے اوپر۔ لہٰذا ایسی غیر معمولی صورتحال میں، کارکنوں اور ایٹمی تنصیبات کی سلامتی کے لیے ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے۔

قاہرہ مفاہمتی یادداشت اور مغربی تخریب کاری:
ایران اور ایجنسی نے 9 ستمبر 2025 کو قاہرہ میں ایک تعمیری ماحول میں اس بحران کو حل کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، لیکن امریکہ اور تین یورپی ممالک نے فوراً اس مثبت پیشرفت کو سبوتاژ کر دیا اور چین و روس کی متوازن تجاویز تک کو سلامتی کونسل میں روک دیا۔ تین یورپی ممالک کی جانب سے سنیپ بیک میکنزم کو فعال کرنا مکمل طور پر غیر قانونی، غیر ذمہ دارانہ اور آخری سفارتی پل کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ممالک خود برجام اور قرارداد 2231 کے خلاف ہیں، اس لیے انہیں اس کی دفعات کا حوالہ دینے کا حق ہی نہیں۔ علاوہ ازیں، قرارداد 2231 18 اکتوبر 2025 کو مستقل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اس سے متعلق تمام پابندیاں ختم ہو چکی ہیں۔ لہٰذا انہیں دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش غیر قانونی ہے اور جنرل اسمبلی و سیکرٹری جنرل کو اسے مکمل طور پر ردّ کرنا چاہیے۔

ایران کا واضح پیغام:
جنابِ صدر،
ایران کبھی بھی دھمکی یا دباؤ کے آگے جھکنے والا ملک نہیں۔ ہمارا جواب صرف احترام، قانون پسندی اور مساوات ہے۔ جنگ، تجاوز اور معاشی دہشت گردی ایران کو کبھی بھی اپنے جائز حقوق سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امیر سعید ایروانی تین یورپی ممالک ایٹمی توانائی ڈائریکٹر جنرل سلامتی کونسل پ رامن ایٹمی اقوام متحدہ صہیونی رجیم جنرل اسمبلی میں ایران ایجنسی کے ایجنسی کی ایران کی کبھی بھی

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار