قاضی احمد ،27 ویں ترمیم کیخلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قاضی احمد(نمائندہ جسارت)27ویں آئینی ترمیم کے خلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر ملک بھر کی طرح قاضی احمد میں بھی سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے نازمحل ہوٹل سے نازباغ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ اس موقع پر ریلی سے تعلقہ صدر محسن راھو ایم بی ڈاھری شفیق لاکھو پی ٹی آئی کے نوردین قادری وحدت المسلمین کے سجاد کاظمی ودیگرنے کہاکہ پاکستان میں نافذ کئے گئے 26ویں اور 27ویں سمیت تمام غیرآئینی ترامیم کی بھرپور مزاحمت کرتے ہیں پاکستان کے 40 والی قرارداد کے مطابق اسے اصل روح اور حقیقی شکل میں بحال کیاجائے کیونکہ یہ معاملہ ملک کے وسیع مفاد سے تعلق رکھتا ھے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں کینگروکورٹس سے بھی بدتر ہوگئیں ہیں اور پارلیمنٹ سپریمیسی کے ماتحت آگئی ہے۔ سندھ حکومت قلم 144کے زریعے خوف کی فضا قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے جوکہ عدلیہ کے نظام کی آزادی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ انہوں مزید کہا تھاکہ ہم 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو سول مارشل سمجھتے ہیں پاکستان کے اصل آئین کے وقار اور اصل روح کے تحفظ کے لئے ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
تحریک انصاف کے رہنما شفیع جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے، نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی کیمپین کر رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی وزیر وہاں ہوتا تو الیکشن کمیشن حرکت میں آچکا ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی یہ خاموشی ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الحاق کیا تو اُس کو بھی کینسل کر دیا گیا اور ہمارے اُمیدواروں کو آزاد ڈیکلیئر کر دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام فیصلہ کر چکے ہیں، 7 جون کو تحریک انصاف کامیاب ہو گی۔ ہم اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے مکینزم پر کام کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی ایک اور واردات کی تیاری کی جارہی ہے وہ ہم کرنے نہیں دیں گے۔ اس کے خلاف ہمیں اگر گلگت بلتستا ن بند کرنا پڑا تو یہ بھی کریں گے۔