Islam Times:
2026-07-24@00:53:59 GMT

سانحہ بگن کرم کو ایک سال مکمل، قاتل آزاد، متاثرین کے زخم تازہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز: آج سے ٹھیک ایک سال قبل ضلع کرم کے علاقہ بگن میں ایک ایسا اندوہناک اور دلخراش سانحہ پیش آیا، جہاں مسافر کانوائے کو تکفیری دہشتگردوں نے نشانہ بنانا، اس سانحہ میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت 55 مسافر شہید اور 70 کے قریب زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ میں ظالم دہشتگردوں نے نہتے مسافروں پر مظالم کے وہ پہاڑ توڑے جس کی مثال کرم کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید عدیل عباس

کہا جاتا ہے کہ جنگ کے بھی کوئی اصول ہوتے ہیں، جہاں نہ مسافروں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور نہ ہی خواتین اور بچوں کو۔ لیکن آج سے ٹھیک ایک سال قبل ضلع کرم کے علاقہ بگن میں ایک ایسا اندوہناک اور دلخراش سانحہ پیش آیا، جہاں مسافر کانوائے کو تکفیری دہشتگردوں نے نشانہ بنانا، اس سانحہ میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت 55 مسافر شہید اور 70 کے قریب زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ میں ظالم دہشتگردوں نے نہتے مسافروں پر مظالم کے وہ پہاڑ توڑے, جس کی مثال کرم کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یاد رہے کہ 2008ء سے 2025ء تک پاراچنار سے پشاور اور پشاور سے پاراچنار جانے والے اہل تشیع کے تقریباً 26 کانوائے پر حملے ہوئے ہیں، جن میں 22 حملے بگن کے علاقہ میں ہوئے ہیں جبکہ 2 حملے صدہ میں، ایک حملہ اڑاولی اور ایک حملہ پیر قیوم میں ہوا۔ ان حملوں میں اب تک 9 سے زائد مسافر شہید ہوچکے ہیں۔ مزید احوال اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہشتگردوں نے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار