پشاور ہائیکورٹ ،پی ٹی آئی حکومت کو سرکاری وسائل کا سیاسی استعمال روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251115-08-25
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو سیاسی جلسوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دے دیا۔ پشاورہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے احتجاج، ریلیوں، جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری مشینری کے استعمال کے خلاف دائر درخواست پر 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا اور سیاسی سرگرمیوں کیلیے سرکاری وسائل کا استعمال روک دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو ہدایات دی جاتی ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ سیاسی جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ ہو، پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور دیگر فریقین سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین اور مشینری کا استعمال کرتے ہیں، احتجاج میں استعمال ہونے والی صوبائی حکومت کی مشینری اب بھی وفاق کے قبضے میں ہے اور درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سرکاری وسائل کا استعمال آئین کے آرٹیکل 4،5 اور25 کے خلاف ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری وسائل کا استعمال قومی خزانے کا ضیاع ہے، ریاست سرکاری تقریبات اور سیاسی تقریبات میں تفریق کرے، سیاسی سرگرمیوں کے لیے مشینری کا استعمال حکومت کی غیر جانب داری واضح کرتی ہے جبکہ سرکاری مشینری کا استعمال انتظامیہ کے اصول کے خلاف بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرکاری وسائل کا استعمال صوبائی حکومت میں سرکاری
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔