پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روک دیا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں ریلیوں، جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری مشینری کے استعمال کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ کرنے کا حکم دیدیا،پشاور ہائیکورٹ نے کہاکہ سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال قومی خزانے کا ضیاع ہے،ریاست سرکاری اور سیاسی تقریبات میں تفریق کرے،سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال اختیارات کے ناجائز اسستعمال کے زمرے میں آتا ہے،پشاور ہائیکورٹ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کردیا۔

پختونخوا حکومت نے یکم سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی پر پابندی لگادی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال پشاور ہائیکورٹ نے

پڑھیں:

سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔

مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا