بہنوں کی عمر میں 10ماہ کا فرق کیوں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)بہنوں کی عمر میں دس ماہ کا فرق کیوں ہے ! نادرا نے اورنگی ٹائون کی خاتون کا شناختی کارڈ بنانے سے انکار کردیا،متاثرہ خاتون نادرا کیخلاف بچوں کے ہمراہ عدالت پہنچ گئیں۔ درخواست گزار صبا عدنان نے عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ گزشتہ 11سال سے نادرا دفتر کے چکر لگا رہی ہوں۔نادرا والے میرا مذاق اڑاتے ہیں، میرے والدین اور بہنوں کے شناختی کارڈ بھی بنے ہوئے ہیں، مجھ سے چھوٹی بہن کا بھی کارڈ بن گیا۔ بتایا گیا کہ دونوں بہنوں کی عمر میں 10 ماہ کا فرق کیوں ہے؟درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ نادرا رولز کے مطابق 7ماہ عمر میں فرق پر بھی کارڈ بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔