ایئرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کے باعث آج بھی پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن متاثر
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کراچی:
پی آئی اے انتظامیہ اور انجینئرز کے درمیان جاری تنازع کے باعث آج بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہیں۔
کراچی سے دبئی جانے والی پرواز پی کے 213 اور کراچی سے ملتان جانے والی پی کے 330 منسوخ کر دی گئی ہیں۔ پشاور سے شارجہ کی پرواز پی کے 257 بھی منسوخ کی گئی ہے۔ گزشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی طور پر 40 پروازیں منسوخ اور 100 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار رہی ہیں۔
آج صبح کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے 300 آدھے گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی۔ کراچی سے لاہور کی صبح 8 بجے والی پرواز پی کے 302 دوپہر ساڑھے 12 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے کوئٹہ کی پرواز پی کے 310 ساڑھے چار گھنٹے تاخیر سے شام 5:30 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے لاہور کی دوپہر 2 بجے والی پرواز پی کے 304 چار گھنٹے تاخیر سے شام 6 بجے روانہ ہوگی۔ کراچی سے مدینہ کی پرواز پی کے 743 دو گھنٹے تاخیر سے رات 10 بجے شیڈول کی گئی ہے۔
اسلام آباد سے کوئٹہ جانے والی پرواز پی کے 325 ساڑھے چار گھنٹے تاخیر سے دوپہر 12:30 بجے روانہ ہوگی، اور اسلام آباد سے العین کی پرواز پی کے 143 تین گھنٹے تاخیر سے رات ساڑھے 12 بجے شیڈول کی گئی ہے۔ لاہور سے کراچی کی پرواز پی کے 303 دو گھنٹے تاخیر سے دوپہر 1 بجے روانہ ہوگی، اور پی کے 305 شام 5 بجے کے بجائے ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ پشاور سے ابوظہبی کی پرواز پی کے 217 ساڑھے سات گھنٹے تاخیر سے شام ساڑھے 6 بجے روانہ ہوگی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل والی پرواز پی کے گھنٹے تاخیر سے بجے روانہ ہوگی کی پرواز پی کے جانے والی کراچی سے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔