ایم ڈی کیٹ پالیسی میں اچانک تبدیلی ، پی ایم ڈی سی سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251113-08-9
اسلام آباد(صباح نیوز) ایم ڈی کیٹ پالیسی میں اچانک تبدیلی کے خلاف درخواست پر عدالت نے پی ایم ڈی سی کو نوٹس جاری کردیا۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایم ڈی کیٹ امتحانات اور داخلوں کی رجسٹریشن پالیسی میں اچانک تبدیلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار میڈیکل طلبہ کے وکیل راجا رضوان عباسی کو تحریری گزارشات جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے پی ایم ڈی سی حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جمعے کو طلب کر لیا تاہم عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ آج ہے تاہم جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہم نے نوٹس جاری کر دیے ہیں، جمعے کو پی ایم ڈی سی سے جواب لے لیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔