ایم ڈی کیٹ تنازع: طلبہ کی درخواست پر پی ایم ڈی سی عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ہائی کورٹ نے ایم ڈی کیٹ پالیسی میں اچانک تبدیلی کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار طلبہ کے وکیل راجا رضوان عباسی کو تحریری گزارشات جمع کرانے کی ہدایت دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ معاملہ بنیادی طور پر صوبائی نوعیت کا ہے، کیونکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کے بیشتر اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ یہ تو صوبائی معاملہ ہے، اب اسے وفاق میں لانے کی بات ہو رہی ہے۔ ہر صوبہ اپنی پالیسی خود بنا سکتا ہے، سندھ یا کسی اور صوبے کا مؤقف مختلف ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل کالجز کے اپنے رجسٹریشن کے مسائل بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نئی پالیسی کے باعث گزشتہ سال امتحان پاس کرنے والے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ رجسٹریشن کا طریقہ کار اچانک تبدیل کر دیا گیا ہے۔
وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کا اختیار کالجز کو منتقل کرنا خلافِ ضابطہ ہے اور امتحانات و رجسٹریشن سے متعلق فیصلے صرف پی ایم ڈی سی کو کرنے چاہییں۔
عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ واضح کریں کہ کون سی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے، تاکہ اس کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اگر معاملہ قانون کے تحت واضح ہے تو عدالت مناسب حکم دینے سے گریز نہیں کرے گی۔
وکیل رضوان عباسی نے مزید کہا کہ سیکشن 47 کے تحت یہ واضح ہے کہ پی ایم ڈی سی کو تمام صوبوں میں یکساں پالیسی اپنانا چاہیے تاکہ طلبہ کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔
بعد ازاں سماعت میں وقفے کے بعد عدالت نے پی ایم ڈی سی حکام کو جمعے کے روز طلب کر لیا اور نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت مانگی، تاہم عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے فوری حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ آج ہے، عدالت نے جواب دیا کہ م نے نوٹس جاری کر دیے ہیں، جمعے کو پی ایم ڈی سی سے جواب لے لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی عدالت نے کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔