الخدمت کے کارکن عمر احمدکو مسلح ڈکوئوں نے لوٹ لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر)سابق جماعت اسلامی ضلع شمالی سیکرٹری اطلاعات علاقہ خداکی بستی کے صاحبزادے وا الخدمت کا کارکن عمر احمد گزشتہ روز رات 9 بجے الخدمت فلٹر پلانٹ سے گھر دروازے پر پہنچا تو ایک موٹر سائکل پر دو مسلح ڈکیٹ نے اسلحے کے زورپر قیمتی موبائل فون لوٹ کر فرار ہو گئے جس کی اطلاع 15 اور سی پی ایل سی کو دی کمپلین نمبر1687126 دیاگیا۔اورسرجانی ٹاؤن تھانے میں بیان جمع کردیاگیا۔امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی طارق مجتبی نے حسن بروھی گوٹھ نذد خدا کی بستی میں لوٹ مار گھروں میں چوری کی واردہ وارداتوں میں اضافے کے واقعات پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمر احمد کی ڈکیٹی پر سخت مزمت کی ہے اور قانون نافذ کرنے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ڈاکوؤں کو فی الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔