اسلام میں صدر سمیت کسی کیلیے بھی استثنا کی گنجائش نہیں، تنظیم اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251115-08-15
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) اسلام میں سربراہِ مملکت سمیت کسی شخص کے لیے بھی استثنا کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاحیات استثنی تو چوری پر سینہ زوری ہے۔ اگر عدالتیں آزاد نہ ہوں گی تو عوام کے حقوق کا تحفظ کیسے ممکن رہے گا؟ شرعی معاملات کی تشریح اور ان پر فیصلہ کا اختیار جید علما کرام کی اکثریت پر مشتمل وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کیا جائے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی ہے جس میں سربراہِ مملکت کو تاحیات استثنا دے دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ریاست اور مقتدر حلقوں کے سربراہ سمیت کسی کے لیے بھی کسی پہلو سے استثنا کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی عوام کے جملہ آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی ریاست میں نظام عدل کا ہر حال میں بول بالا رہنا چاہیے تاکہ عوام کی داد رسی بھی ہو سکے اور ان پر ظلم و جبر کو بھی روکا جا سکے۔ البتہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ شرعی معاملات کو طے کرنے اور اس حوالے سے تشریح اور فیصلہ کرنے کا حق صرف وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کیا جائے، جس میں جید علما ء کرام کی اکثریت ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی تمام آئینی شقوں اور قوانین کا خاتمہ کیا جائے جو شریعت کے منافی ہیں اور آئندہ کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے منافی نہ کی جائے، اور یہ اصول پاکستان کے آئین میں بھی درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام قانون سازی قرآن و سنت کے دائرہ میں رہتے ہوئے کی جائے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب آئین میں موجود اسلامی شقوں کو باقی تمام شقوں پر عملی طور پر بالادستی حاصل ہوگی۔ لہٰذا حکومت آئین میں موجود غیر شرعی دفعات کے خاتمہ، اسلامی دفعات کی دیگر پر بالادستی اور ملک میں اسلام کے نظام عدلِ اجتماعی کے نفاذ و قیام کو اپنی اولین ترجیح بنائے تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب و کامران ہوسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔
ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔
یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔