data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251115-08-15

 

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) اسلام میں سربراہِ مملکت سمیت کسی شخص کے لیے بھی استثنا کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاحیات استثنی تو چوری پر سینہ زوری ہے۔ اگر عدالتیں آزاد نہ ہوں گی تو عوام کے حقوق کا تحفظ کیسے ممکن رہے گا؟ شرعی معاملات کی تشریح اور ان پر فیصلہ کا اختیار جید علما کرام کی اکثریت پر مشتمل وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کیا جائے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں 27ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی ہے جس میں سربراہِ مملکت کو تاحیات استثنا دے دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ریاست اور مقتدر حلقوں کے سربراہ سمیت کسی کے لیے بھی کسی پہلو سے استثنا کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی عوام کے جملہ آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی ریاست میں نظام عدل کا ہر حال میں بول بالا رہنا چاہیے تاکہ عوام کی داد رسی بھی ہو سکے اور ان پر ظلم و جبر کو بھی روکا جا سکے۔ البتہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ شرعی معاملات کو طے کرنے اور اس حوالے سے تشریح اور فیصلہ کرنے کا حق صرف وفاقی شرعی عدالت کے سپرد کیا جائے، جس میں جید علما ء کرام کی اکثریت ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی تمام آئینی شقوں اور قوانین کا خاتمہ کیا جائے جو شریعت کے منافی ہیں اور آئندہ کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے منافی نہ کی جائے، اور یہ اصول پاکستان کے آئین میں بھی درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام قانون سازی قرآن و سنت کے دائرہ میں رہتے ہوئے کی جائے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب آئین میں موجود اسلامی شقوں کو باقی تمام شقوں پر عملی طور پر بالادستی حاصل ہوگی۔ لہٰذا حکومت آئین میں موجود غیر شرعی دفعات کے خاتمہ، اسلامی دفعات کی دیگر پر بالادستی اور ملک میں اسلام کے نظام عدلِ اجتماعی کے نفاذ و قیام کو اپنی اولین ترجیح بنائے تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب و کامران ہوسکیں۔

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری