کسی تیسرے ملک کی ضرورت نہیں، مذاکرات کی لبنانی دعوت پر ایرانی وزیر خارجہ کا مثبت جواب
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
اپنے لبنانی ہم منصب کیجانب سے مذاکرات کی دعوت کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے دورہ تہران کی دعوت دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ہم لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور اگر مجھے دورہ بیروت کی دعوت دیجائے تو میں بخوشی قبول کر لونگا اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے لبنانی ہم منصب یوسف رجی کی جانب سے دی جانے والی مذاکرات کی دعوت کا مثبت جواب دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ میرے عزیز دوست، لبنانی وزیر خارجہ یوسف رجی نے ایم ٹی وی لبنان (MTV) کے ساتھ انٹرویو میں مجھے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ سید عباس عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور ایران و لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ہونے والی کسی بھی بات چیت کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے یاددہانی کروائی کہ ان مذاکرات کے لئے کسی بھی تیسرے ملک کی کوئی ضرورت نہیں! انہوں نے تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں اپنے عزیز دوست یوسف رجی کو دورہ تہران کی دعوت دیتا ہوں اور اگر وہ مجھے بیروت کے دورے کی دعوت دیں تو بھی میں بخوشی قبول کر لوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کی کی دعوت
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔