ابوظہبی ٹی10 لیگ : ڈیکن گلیڈی ایٹرز اور کوئٹہ کووَلری کی شاندار فتوحات
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ابوظہبی ٹی10 لیگ : ڈیکن گلیڈی ایٹرز اور کوئٹہ کووَلری کی شاندار فتوحات WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز
ابوظہبی، ابوظہبی ٹی10 لیگ میں ڈیکن گلیڈی ایٹرز نے ڈیوڈوائزاور مارکس اسٹوئنس کی طوفانی بلے بازی کی بدولت رائل چیمپس کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی۔ 134 رنز کے ہدف کے تعاقب میں دونوں بلے بازوں نے 43 گیندوں پر ناقابلِ شکست 105 رنز کی دھماکے دار شراکت قائم کی اور صرف 9.
جبکہ اسٹوئنس نے 22 گیندوں پر 40 رنز بنائے جن میں 3 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔اس سے قبل رائل چیمپس کے نکولس پورن نے رشی دھون کے ایک ہی اوور میں تین چھکے اور ایک چوکا جڑ کر اننگز کو تیزی سے آگے بڑھایا، تاہم دھون نے اسی اوور میں انہیں آؤٹ کردیا۔ کپتان جیسن رائے (17) اور نیروشن ڈکویلا (33) نے بھی تیز آغاز فراہم کیا، جبکہ برینڈن مکملن 28 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
آخری اوورز میں آرون جونز (28) اور کوئنٹن سیمسن (14 ) نے 43 رنز کا قیمتی اضافہ کر کے اسکور کو تین وکٹوں کے نقصان پر133رنز تک پہنچایا۔تیسرے میچ میں کوئٹہ کووَلری نے 108 رنز کے ہدف کو 7.2 اوورز میں بآسانی حاصل کر کے اجمان ٹائٹنز کو سات وکٹوں سے مات دے دی۔ابتدائی بلے باز ایون لیوس (13) اور اینڈریز گوس (13) نے برق رفتاری سے آغاز کیا، لیکن دونوں تین اوورز کے اندر آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد لیام لیونگسٹون اور محمد وسیم نے 20 گیندوں پر 43 رنز کی تیز شراکت قائم کر کے میچ پر گرفت مضبوط کر دی۔ آخر میں خواجہ نافع نے دو چوکے اور دو چھکے لگا کر ٹیم کو شاندار انداز میں ہدف تک پہنچا دیا۔اس سے پہلے ٹائٹنز کی بیٹنگ لائن 12پر تین وکٹوں کے نقصان پر ڈھیر ہوتی نظر آئی، مگر معین علی نے 21 گیندوں پر 59 رنز کی تاریخی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو سہارا دیا۔ ان کی اننگز میں 4 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے اور انہوں نے صرف 19 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ ٹائٹنز نے مقررہ اوورز میں 107/7 رنز اسکور کیے۔کوئٹہ کی جانب سے عباس آفریدی نے 3/15 جبکہ خزعیمہ تنویر نے 2/7 کے شاندار اعداد و شمار حاصل کیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی میڈیا جھوٹ کا ماہر، سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کر دیا:وزات اطلاعات ویسٹ انڈیز کے شائی ہوپ 13 انٹرنیشنل ٹیموں کیخلاف سنچری بنانیوالے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے اسلام آباد میں دبئی طرز کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کرنے کا فیصلہ ابوظہبی ٹی10: رائیڈرز کی فتح، معین علی کی دھواں دار اننگز پرو10 لیگ جنوری 2026 میں تھائی لینڈ، بلغاریہ اور پولینڈ میں لانچ ہوگی ابوظہبی ٹی10: شاہنواز دھانی کے جادوئی اوور نے وارئیرز کو آخری گیند پر فتح دلوائی ایک لاکھ 56 ہزار آبادی والے ملک کوراسا نے فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کر کے نئی تاریخ رقم کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ابوظہبی ٹی10
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔