ماتلی: گل محمد کالونی کی رہائشی ہیلتھ ورکر پر حملہ، ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)گل محمد کالونی کی رہائشی ہیلتھ ورکر پر حملہ، ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر پریس کلب میں احتجاج۔گلشن بھٹ، گل محمد کالونی کی رہائشی اور ہیلتھ ورکر، اپنے اور اپنے بیٹے پر مبینہ حملہ کرنے والے ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف اپنے شوہر خالد بھٹ کے ہمراہ پریس کلب پہنچی اور احتجاج کیا۔انہوں نے بتایا کہ معمولی بات پر ملزمان زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اْن پر اور اْن کے بیٹے شیراز پر حملہ کرکے شدید تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔گلشن بھٹ نے کہا کہ تھانے میں رپورٹ درج کرانے کے باوجود پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا، جس کے بعد ملزمان دوبارہ انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور اپنے خاندان کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملزمان کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔