ماتلی: گل محمد کالونی کی رہائشی ہیلتھ ورکر پر حملہ، ملزمان کی عدم گرفتاری پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)گل محمد کالونی کی رہائشی ہیلتھ ورکر پر حملہ، ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر پریس کلب میں احتجاج۔گلشن بھٹ، گل محمد کالونی کی رہائشی اور ہیلتھ ورکر، اپنے اور اپنے بیٹے پر مبینہ حملہ کرنے والے ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف اپنے شوہر خالد بھٹ کے ہمراہ پریس کلب پہنچی اور احتجاج کیا۔انہوں نے بتایا کہ معمولی بات پر ملزمان زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اْن پر اور اْن کے بیٹے شیراز پر حملہ کرکے شدید تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔گلشن بھٹ نے کہا کہ تھانے میں رپورٹ درج کرانے کے باوجود پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا، جس کے بعد ملزمان دوبارہ انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور اپنے خاندان کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملزمان کی
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔